بھارت : ہندوانتہاپسندوں کا مسلمان نوجوان پر وحشیانہ تشدد

لکھنو: بھارتی ریاست اتر پردیش میں ضلع مظفر نگر کے علاقے برلا میں ہندو انتہاپسندوں نے ایک مسلمان نوجوان کو وحشیانہ تشدد کا نشانہ بنایا جس پر علاقے کی مسلم کمیونٹی میں شدید غم و غصہ پایا جاتا ہے۔
کشمیرمیڈیاسروس کے مطابق متاثرہ شخص کی شناخت فردین کے نام سے ہوئی ہے جس پر 21اگست کو دس سے زائد افراد نے حملہ کیا ،وحشیانہ تشدد کا نشانہ بنایا اور مسلم مخالف نعرے بازی کی۔ راہگیروںکی طرف سے بچائے جانے سے پہلے وہ شدید زخمی ہوا تھا۔ بعد میں اسے ہسپتال لے جایا گیا جہاں ڈاکٹروں نے اس کی حالت نازک بتائی۔فردین نے صحافیوں کو بتایا کہ اس پر صرف مسلمان ہونے کی وجہ سے حملہ کیا گیا ۔ انہوں نے کہاکہ وہ لوگ مجھے ”کٹوا”جیسی توہین آمیز اصطلاحات سے پکارتے تھے جو اکثر مسلمانوں کے خلاف گالی کے طور پر استعمال کی جاتی ہے۔اس واقعے نے علاقے میں بڑے پیمانے پر خوف اورغم و غصے کو جنم دیا ۔ مقامی لوگوں نے بتایاکہ بی جے پی حکومت نے ایک ایسا ماحول بنایا ہے جہاں مسلمانوں کے خلاف نفرت انگیز جرائم اور ہجومی تشدد ایک معمول بن چکا ہے۔ کمیونٹی رہنمائوں اور انسانی حقوق کے کارکنوں نے حملے کی شدید مذمت کرتے ہوئے مجرموں کی فوری گرفتاری کا مطالبہ کیا۔کیس کی سنگینی کے باوجود پولیس میڈیا کے سوالات کا جواب دینے سے کتراتی ہے اور اس کی لاپرواہی اور بے حسی پر تنقید کی جا رہی ہے۔انسانی حقوق کے گروپوں نے خبردار کیا کہ حکومت کی بے عملی سے صرف حملہ آوروں کی حوصلہ افزائی ہوتی ہے اور اقلیتوں میں احساس عدم تحفظ مزید گہرا ہوتاجارہا ہے۔فردین کے اہل خانہ نے فوری انصاف کی اپیل کی ہے۔ ان کا کہناہے یہ واقعہ اتر پردیش میں مسلمانوں کی بگڑتی ہوئی صورتحال کی عکاسی کرتا ہے جہاں مذہبی منافرت کی وجہ سے اقلیتوں پرحملے بڑھ رہے ہیں۔





