بھارت یکطرفہ طور پر سندھ طاس معاہدہ معطل یا ختم نہیں کرسکتا: قیصر احمد شیخ
اسلام آباد:
وفاقی وزیر برائے سرمایہ کاری قیصر احمد شیخ نے کہا ہے کہ بھارت یکطرفہ طور پر سندھ طاس معاہدہ کو نہ تو معطل کر سکتا ہے اور نہ ہی ختم کر سکتا ہے، کیونکہ ایسا کوئی بھی اقدام بین الاقوامی قانون کے خلاف اور غیر قانونی ہوگا۔
کشمیرمیڈیاسروس کے مطابق وفاقی وزیر نے اسلام آباد میں ایمپاک اسٹریٹیجیز کے زیر اہتمام پانی، موسمیاتی تبدیلی اور سفارت کاری،پاکستان کے سندھ طاس کا مستقبل کا تحفظ کے عنوان سے تحقیقی رپورٹ کی تقریبِ رونمائی سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ پانی کے معاملے پر جاری کشیدگی نہ صرف جنوبی ایشیا بلکہ عالمی امن اور معاشی استحکام کے لیے بھی سنگین نتائج کی حامل ہو سکتی ہے۔رپورٹ میں کہا گیا کہ پاکستان کو قلیل مدتی ہنگامی اقدامات سے پانی کے تحفظ کے لیے ایک جامع قومی پالیسی اختیار کرنا ہوگی تاکہ سیلاب کے بڑھتے ہوئے خطرات اور شدت اختیار کرتے آبی بحران سے موثر انداز میں نمٹا جا سکے۔رپورٹ میں خبردار کیا گیا ہے کہ موسمیاتی تبدیلی، گلیشیئرز کے تیزی سے پگھلنے، آبادی میں اضافے، آبپاشی کے بوسیدہ نظام، زیر زمین پانی کے بے دریغ استعمال اور دریائے سندھ طاس پر بڑھتے دبا ئونے پاکستان کو پانی کے تحفظ کے شدید بحران سے دوچار کر دیا ہے۔ رپورٹ میں سفارش کی گئی کہ پاکستان داخلی سطح پر آبی وسائل کے بہتر انتظام کے ساتھ ساتھ علاقائی سطح پر فعال آبی سفارت کاری کو بھی فروغ دے۔





