مغربی بنگال :ہندوتوا تنظیم کا تاریخی مسجد کے قریب شیو لنگم نصب کرنے کااعلان ،صورتحال کشیدہ

نئی دہلی:بھارتی ریاست مغربی بنگال کے ضلع مالدہ میں ایک ہندو تنظیم کی جانب سے 14ویں صدی کی تاریخی آدینہ مسجد کے باہر شیو لنگم نصب کرنے کے اعلان کے بعد علاقے میں صورتحال کشیدہ ہے۔
کشمیر میڈیا سروس کے مطابق شیو لنگم نصب کرنے کاا علان آدیناتھ پراتن شیو مندرکیتنظیم نے کیا ہے، جس کے سربراہ کاجل گوسوامی ہیں، جو شمالی بنگال میں بھارتیہ جنتا پارٹی کے گڈ گورننس ونگ کے کنوینر بھی ہیں۔ تنظیم کا دعویٰ ہے کہ آدینہ مسجد ایک قدیم ہندو مندر کی جگہ پر تعمیر کی گئی تھی اور اس سلسلے میں آثارِ قدیمہ کا سروے کرانے کے لیے کلکتہ ہائی کورٹ سے رجوع کرنے کا اعلان بھی کیا گیاہے۔1373 میں سلطنت بنگال کے دور میں تعمیر ہونے والی آدینہ مسجدکاشمار مشرقی بھارت کی اہم اسلامی تاریخی عمارتوں میں ہوتا ہے اور یہ بھارتی محکمہ آثارِ قدیمہ کے تحفظ میں ہے۔ اس سے قبل 2024 میں ایک ہندوگروہ نے مسجد کے اندر مبینہ شیو لنگم ملنے کا دعوی کرتے ہوئے مذہبی رسومات ادا کی تھیں، جس پر پولیس میں شکایات درج کرائی گئی تھیں۔مقامی مسلمانوں اور اپوزیشن جماعتوں نے اس اقدام کی شدید مذمت کرتے ہوئے اسے بی جے پی اور آر ایس ایس کی جانب سے قرونِ وسطیٰ کی تاریخی مساجد کو نشانہ بنانے کی وسیع تر مہم کا حصہ قرار دیا ہے۔ سی پی آئی (ایم)کے رہنما محمد سلیم نے الزام عائد کیا کہ بی جے پی مذہبی معاملات کو فرقہ وارانہ کشیدگی بڑھانے کے لیے استعمال کر رہی ہے۔مالدہ پولیس کا کہنا ہے کہ آدینہ مسجد قدیم آثار کے تحفظ سے متعلق قانون کے تحت محفوظ یادگار ہے اور وہاں کسی بھی غیر مجاز مذہبی سرگرمی کی اجازت نہیں دی جائے گی۔








