مقبوضہ جموں و کشمیر

طویل تنازعہ مقبوضہ جموں وکشمیر میں ذہنی صحت کے بحران کا سبب بن رہا ہے: بھارتی حکومت کا اعتراف

چھاپے، من مانی گرفتاریاں، مسماری منشیات کے بڑھتے ہوئے استعمال کی وجوہات ہیں

سرینگر: بھارتیحکومت نے اعتراف کیا ہے کہ طویل عرصے سے جاری جنگی صورتحال نے مقبوضہ جموں و کشمیر میں ذہنی صحت کے بڑھتے ہوئے بحران میں نمایاں کردار ادا کیا ہے جبکہ انسانی حقوق کے کارکنوںکا کہنا ہے کہ مسلسل بھارتی مظالم سے صورتحال مزید خراب ہوئی ہے۔
کشمیر میڈیا سروس کے مطابق بھارتی پارلیمنٹ کے ایوان بالا راجیہ سبھا میںنیشنل کانفرنس کے رکن سجاد احمد کچلو کے ایک سوال کے جواب میں بھارتی وزیر مملکت برائے صحت اور خاندانی بہبود پرتاب راو¿ جادھو نے بتایا کہ طویل تنازعے اور بار بار آنے والی آفات نے مقبوضہ علاقے میں نفسیاتی علاج کی مانگ میں تیزی سے اضافہ کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ذہنی بیماریوں کے پھیلاو¿ کا جائزہ لینے کے لیے خاص طور پر کمزور کمیونٹیز میں قومی دماغی صحت سروے کرایا جا رہا ہے۔نئی دہلی نے دعویٰ کیا کہ اس نے مقبوضہ جموں وکشمیرمیں بگڑتی ہوئی صورتحال سے نمٹنے کے لیے ذہنی صحت کی دیکھ بھال کی سہولیات، نشے کے علاج کے مراکز اور کونسلنگ سروسزکو بڑھایا ہے۔تاہم سیاسی تجزیہ کاروں اور انسانی حقوق کے مبصرین کا کہنا ہے کہ بھارتی حکام کشمیریوں کو متاثر کرنے والی بنیادی وجوہات کو نظر انداز کر رہے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ دہائیوں سے جاری فوجی قبضے، محاصرے اور تلاشی کی مسلسل کارروائیاں، من مانی گرفتاریاں، گھروں پر چھاپے، املاک کی مسماری، زمینوں پر قبضے، انٹرنیٹ کی بندش اور کالے قوانین کے تحت طویل نظربندیوںنے علاقے میں مسلسل خوف اور عدم تحفظ کا ماحول پیدا کیا ہے۔ان کا کہنا ہے کہ بار بار کریک ڈاون، نوجوانوں کو ڈرانے دھمکانے، خاندانوں کو ہراساں کرنے اور شہری آزادیوں پر پابندیوں نے کشمیریوں خاص طور پر بچوں اور نوجوانوں پر گہرے نفسیاتی اثرت ڈالےہیں جو تیزی سے منشیات کی طرف مائل ہو رہے ہیں اور بحران مزید سنگین رخ اختیارکررہا ہے۔مبصرین نے کہا کہ دماغی امراض میں خطرناک حد تک اضافے کو مقبوضہ علاقے میں موجودہ سیاسی اور انسانی حقوق کی صورتحال سے الگ تھلگ نہیں دیکھا جا سکتا۔ انہوں نے عالمی برادری پر زور دیا کہ وہ نہ صرف اس تنازعے کے انسانی نتائج بلکہ جبر کی پالیسیوں کو بھی حل کرے جو کشمیری آبادی میں صدمے، ناامیدی اور منشیات کے استعمال کو ہوا دے رہی ہیں۔

Channel | Group  | KMS on
Subscribe Telegram Join us on Telegram| Group Join us on Telegram
| Apple 

متعلقہ مواد

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button