مقبوضہ جموں و کشمیر

مقبوضہ جموں وکشمیر:بھارتی فورسز نے گزشتہ سات ماہ کے دوران 21 کشمیری شہیدکیے

سری نگر:بھارت کے غیر قانونی زیر قبضہ جموں وکشمیر میں بھارتی فورسز نے اپنی ریاستی دہشت گردی کی مسلسل کارروائیوں کے دوران گزشتہ سات ماہ کے دوران 21 کشمیریوں کو شہید کیا۔
کشمیر میڈیا سروس کے شعبہ تحقیق کی طرف سے آج جاری کیے گئے اعداد و شمار میں کہا گیا کہ بھارتی فوج کی راشٹریہ رائفلز، پیرا ملٹری سینٹرل ریزرو پولیس فورس، اسپیشل آپریشنز گروپ اور بدنام زمانہ ایجنسیوں ”این آئی اے ، سی آئی کے ، ایس آئی اے “وغیرہ نے اس عرصے کے دوران نوجوانوں ، طلباءاور خواتین سمیت 4ہزار 6سو 50 شہریوں کو گرفتار کیا جن میں سے بہت سوں کے خلاف کالے قوانین” پبلک سیفٹی ایکٹ اور یواے پی اے “کے تحت مقدمات درج کیے گئے۔ قابض بھارتی فورسز نے اس عرصے میں نہتے کشمیریوں کے خلاف طاقت کا وحشیانہ استعمال کرتے ہوئے کم از کم 50شہریوں کو زخمی کیا۔
دریں اثنا نئی دلی کے مسلط کردہ لیفٹیننٹ گورنر منوج سہنا کی زیر قیادت فرقہ پرست بھارتی انتظامیہ نے مکانوں ، دکانوں ، زمینوں ، گاڑیوں سمیت کشمیریوں کی 253جائیدادیں ضبط کر لیںجبکہ بھارتی فرسز نے رہائشی مکانات سمیت کم از کم 52عمارتیں مسمار کر دیں۔جائیدادوں کی ضبطی اور مسماری کا مقصد کشمیریوں کو معاشی طور پر غیر مستحکم کرنا اور انہیں آزادی کے مطالبے سے دستبردار ہونے پر مجبور کرنا ہے۔
یاد رہے کہ کل جماعتی حریت کانفرنس کے چیئرمین مسرت عالم بٹ، محمد یاسین ملک، شبیر احمد شاہ، آسیہ اندرابی، ناہیدہ نسرین، فہمیدہ صوفی، نعیم احمد خان، محمد ایاز اکبر، پیر سیف اللہ، معراج الدین کلوال،فاروق احمد ڈار ،ایڈووکیٹ شاہد الاسلام ، ایڈووکیٹ میاں عبدالقیوم، ڈاکٹر حمید فیاض، مشتاق الاسلام، بلال صدیقی، مولوی بشیر عثمانی، فیاض حسین جعفری، ظفر اکبر بٹ، ایڈووکیٹ زاہد علی، ڈاکٹر محمد قاسم فکتو، رفیق احمد گنائی، غلام محمد خان سوپوری، فاروق احمدتوحیدی سمیت ہزاروں کشمیریوں جیلوں میں بند ہیں جن میں درجنوں خواتین بھی شامل ہیں۔ بی جے پی کی بھارتی حکومت ان سیاسی قیدیوں کو حق خود ارادیت کے مطالبے کی پاداش میں بڑے پیمانے پر انتقامی کارروائیوں کا نشانہ بنا رہی ہے۔

Channel | Group  | KMS on
Subscribe Telegram Join us on Telegram| Group Join us on Telegram
| Apple 

متعلقہ مواد

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button