مضامین

شبیر احمد شاہ ”ضمیر کا وہ قیدی جس کی خاموشی دنیا کے ضمیر سے سوال کرتی ہے”

`مشتاق احمد بٹ`
تاریخ میں کچھ لوگ ایسے پیدا ہوتے ہیں جو اپنی زندگی نہیں جیتے، بلکہ اپنی قوم کی تقدیر کے لیے جیتے ہیں۔ وہ اپنی خوشیوں، اپنے خوابوں، اپنے خاندان، اپنی جوانی اور اپنی آزادی کو ایک ایسے مقصد پر قربان کر دیتے ہیں جو ان کی ذات سے کہیں بڑا ہوتا ہے۔ تحریکِ آزادی جموں و کشمیر کی تاریخ بھی ایسے ہی عظیم کرداروں سے روشن ہے، اور ان کرداروں میں ایک درخشاں نام شبیر احمد شاہ کا ہے۔ وہ صرف ایک سیاسی و حریت رہنما نہیں، بلکہ ایک نظریہ ہیں، ایک استقامت ہیں، ایک ایسی زندہ داستان ہیں جسے نہ جیل کی دیواریں خاموش کر سکیں، نہ زنجیریں جھکا سکیں اور نہ ہی ظلم کی تمام تر طاقتیں شکست دے سکیں ۔ انہوں نے اپنی پوری زندگی کسی اقتدار، منصب یا ذاتی مفاد کے لیے نہیں گزاری بلکہ صرف اور صرف اپنی قوم کے اس بنیادی حق کی بات کی جسے دنیا خود ایک مسلمہ اصول تسلیم کرتی ہے، یعنی حقِ خودارادیت۔ مگر افسوس کہ اسی مطالبے کو جرم بنا دیا گیا، اور اسی جرم کی سزا انہیں بھارتی جیلوں کی تاریک کوٹھڑیوں میں چالیس برس سے زائد عرصہ گزار کر ادا کرنا پڑی۔ یہ صرف ایک شخص کی قید نہیں، بلکہ ایک پوری قوم کی مظلومیت کی داستان ہے۔ذرا تصور کیجیے، چالیس برس … ایک انسان کی پوری جوانی، اس کے خواب، اس کی خواہشیں، اس کے خاندان کی خوشیاں، اس کے والدین کی شفقت، اس کے بچوں کا بچپن، اس کے دوستوں کی رفاقت، اس کی زندگی کے حسین ترین سال… سب کچھ جیل کی بلند دیواروں، آہنی دروازوں اور سلاخوں کے پیچھے گزر جائے۔ کتنی اذیت ناک ہوگی وہ صبح جو آزادی کی روشنی کے بجائے لوہے کے دروازے کی آواز سے شروع ہوتی ہوگی۔ کتنی طویل ہوگی وہ رات جس میں انسان صرف تنہائی، خاموشی اور یادوں کو اپنا ساتھی پاتا ہوگا۔ کتنی تکلیف دہ ہوگی وہ گھڑی جب ایک بیٹا اپنے والدین کی بیماری یا وفات کی خبر صرف جیل کی دیواروں کے اندر سنتا ہو، مگر ان کے آخری دیدار کا حق بھی اس سے چھین لیا جائے۔ کتنی بے رحم ہوگی وہ زندگی جس میں عیدیں بھی قید ہوں، خوشیاں بھی قید ہوں، دعائیں بھی قید ہوں اور انسان خود بھی قید ہو، مگر اس کا ضمیر پھر بھی آزاد رہے۔ شبیر احمد شاہ نے یہ سب کچھ برداشت کیا، مگر اپنے نظریے کا سودا نہیں کیا۔ انہوں نے ظلم کے سامنے سر نہیں جھکایا، اپنے موقف سے دستبردار نہیں ہوئے اور نہ ہی اپنی قوم کے حق پر سمجھوتہ کیا۔ یہی وجہ ہے کہ انہیں دنیا کے مختلف حلقوں میں "Prisoner of Conscience” یعنی "ضمیر کا قیدی” کہا گیا، کیونکہ ان کا جرم کوئی تشدد نہیں تھا، ان کا جرم کوئی ذاتی مفاد نہیں تھا، ان کا جرم صرف اتنا تھا کہ وہ اپنی قوم کے سیاسی مستقبل اور بنیادی حقوق کی بات کرتے رہے۔لیکن شبیر احمد شاہ کی داستان صرف ان کی اپنی داستان نہیں۔ یہ ان ہزاروں کشمیری خاندانوں کی داستان بھی ہے جنہوں نے برسوں اپنے پیاروں کا انتظار کیا، جن کی مائیں ہر دستک پر یہ سمجھ کر دروازے کی طرف دوڑتی رہیں کہ شاید ان کا بیٹا واپس آ گیا ہو، جن کے بچے اپنے باپ کی انگلی پکڑ کر چلنے کے بجائے ملاقات کے کمروں میں شیشے کی دیواروں کے آرپار انہیں دیکھتے ہوئے بڑے ہوئے، جن کی بیویوں نے اپنی پوری جوانی انتظار کی چادر اوڑھے گزار دی، اور جن کے والدین اپنے بیٹوں کی راہ تکتے تکتے اس دنیا سے رخصت ہو گئے۔ یہ صرف ایک قیدی کی تکلیف نہیں، بلکہ ایک پوری قوم کے اجتماعی دکھ کی تصویر ہے۔آج جب ہم شبیر احمد شاہ کو سلام پیش کرتے ہیں تو درحقیقت ہم اس عزم کو سلام پیش کرتے ہیں جو چالیس برس کی قید بھی نہ توڑ سکی۔ ہم اس حوصلے کو سلام پیش کرتے ہیں جسے تنہائی شکست نہ دے سکی۔ ہم اس ایمان کو سلام پیش کرتے ہیں جسے ظلم خرید نہ سکا۔ ہم تو کیا، کشمیر کی فضائیں بھی آپ کو سلام کرتی ہیں۔ چنار کے درخت آپ کو سلام کرتے ہیں، جہلم کی موجیں آپ کو سلام کرتی ہیں، شہدا کی قبریں آپ کو سلام کرتی ہیں، وہ مائیں آپ کو سلام کرتی ہیں جنہوں نے اپنے لختِ جگر آزادی کی راہ میں قربان کیے، وہ بچے آپ کو سلام کرتے ہیں جنہوں نے اپنے باپ کی محبت سے زیادہ اس کی جدوجہد کو وراثت میں پایا، اور وہ پوری قوم آپ کو سلام کرتی ہے جس کے دل میں آپ کی استقامت ایک چراغ کی مانند روشن ہے۔ہم نیلسن منڈیلا کی جدوجہد کو بھی سلام پیش کرتے ہیں۔ انہوں نے ستائیس برس قید کاٹی، اور دنیا نے ان کی قربانی کو خراجِ تحسین پیش کیا۔ انہیں امن کا نوبل انعام ملا، عالمی اعزازات ملے، اور پوری انسانیت نے انہیں آزادی اور انسانی وقار کی علامت تسلیم کیا۔ یہ انسانیت کی فتح تھی، اور ہم اس کا احترام کرتے ہیں۔ لیکن اسی احترام کے ساتھ آج ہم عالمی برادری سے ایک سوال پوچھنے کا حق رکھتے ہیں۔اگر ستائیس برس کی قید نے دنیا کے ضمیر کو جھنجھوڑ دیا تھا، تو شبیر احمد شاہ کی چالیس برس سے زائد اسیری پر یہ خاموشی کیوں ہے؟ اگر آزادی ہر انسان کا بنیادی حق ہے، تو کشمیری اس حق سے کیوں محروم ہیں؟ اگر حقِ خودارادیت اقوامِ متحدہ کے منشور کا حصہ ہے، تو اس حق کا مطالبہ کرنے والے رہنما دہائیوں سے جیلوں میں کیوں ہیں؟ اگر انسانی حقوق واقعی عالمگیر ہیں، تو کیا کشمیری انسان اس دائرے سے باہر ہیں؟ اگر ضمیر کے قیدی دنیا کے احترام کے مستحق ہیں، تو شبیر احمد شاہ کی رہائی کے لیے عالمی ضمیر اتنا خاموش کیوں ہے؟یہ سوال کسی ایک حکومت سے نہیں، پوری دنیا سے ہے۔ یہ سوال اقوامِ متحدہ سے ہے، یہ سوال انسانی حقوق کے عالمی اداروں سے ہے، یہ سوال ان تمام طاقتوں سے ہے جو انصاف، آزادی اور انسانی وقار کی بات کرتی ہیں۔ کشمیری کسی سے احسان نہیں مانگتے، وہ صرف انصاف مانگتے ہیں؛ وہ صرف اتنا چاہتے ہیں کہ ان کے ساتھ بھی وہی معیار اپنایا جائے جو دنیا کے ہر مظلوم انسان کے لیے اپنایا جاتا ہے۔ تاریخ یہ ضرور لکھے گی کہ ایک شخص تھا جس نے اپنی زندگی کے چالیس برس سے زیادہ بھارتی جیلوں میں گزار دیے، مگر اس کا عزم کبھی قید نہ ہو سکا۔ تاریخ یہ بھی لکھے گی کہ اس کے جسم پر پہرے تھے، مگر اس کا ضمیر آزاد تھا؛ اس کے ہاتھوں میں زنجیریں تھیں، مگر اس کے نظریات آسمان کی وسعتوں میں پرواز کرتے رہے۔ اور تاریخ یہ سوال بھی ہمیشہ زندہ رکھے گی کہ جب شبیر احمد شاہ اپنی قوم کے حق کے لیے چار دہائیوں سے زیادہ عرصہ جیل میں رہے، تو آخر دنیا کا ضمیر کہاں سویا ہوا تھا؟سلام ہے شبیر احمد شاہ کو ، سلام ہے ان کی بے مثال استقامت کو، سلام ہے ان تمام کشمیری اسیرانِ حریت کو جنہوں نے اپنی آزادی قربان کر کے اپنی قوم کے حوصلے کو زندہ رکھا، اور سلام ہے اس سرزمین کو جس نے ایسے فرزند پیدا کیے جنہیں قید تو کیا جا سکا، مگر شکست کبھی نہیں دی جا سکی۔

Channel | Group  | KMS on
Subscribe Telegram Join us on Telegram| Group Join us on Telegram
| Apple 

متعلقہ مواد

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button