مقبوضہ جموں و کشمیر

کشمیری 5 اگست” یوم استحصال کشمیر“ کو یوم سیاہ کے طورپر منائیں گے

اسلام آباد :کنٹرول لائن کے دونوں جانب اور دنیا بھر میں مقیم کشمیری 5 اگست” یوم استحصال کشمیر“ کو یوم سیاہ کے طورپر منائیں گے ، اس دن بھارت نے دفعہ370 اور 35 اے کو یکطرفہ طورپر منسوخ کرکے ریاست کو دوحصوں میں تقسیم کیاتھا۔
کشمیرمیڈیاسروس کے مطابق کشمیر ی بھارت کے یکطرفہ اقدامات کو ایک بارپھر مستردکریں گے اوراقوام متحدہ کی طرف سے تسلیم شدہ حق خودارادیت کا مطالبہ دہرائیں گے۔ سیاسی تجزیہ کاروں اور حریت رہنماوں کا کہنا ہے کہ دفعہ 370کی منسوخی تنازعہ کشمیر میں ایک اہم موڑ ہے، جو اقوام متحدہ کے ایجنڈے پر ایک اہم مسئلہ ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ تنازعہ تقسیم برصغیر کا نامکمل ایجنڈاہے اور جموں و کشمیر کے مستقبل کا تعین اقوام متحدہ کی زیر نگرانی آزادانہ اور غیر جانبدارانہ رائے شماری کے ذریعے ہونا ہے۔انہوں نے یاد دلایا کہ بھارت خود 1948 میں تنازعہ کشمیر کو اقوام متحدہ میں لے گیا جس کے بعد اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل نے 21 اپریل 1948 کو قرارداد 47 منظور کی جس میں کشمیری عوام کی خواہشات کے تعین کے لیے استصواب رائے پر زوردیاگیا۔ انہوں نے مہاتما گاندھی اور جواہر لعل نہرو سمیت بھارت کے بانی رہنماو¿ں کے بیانات کا بھی حوالہ دیاجن میں یہ تسلیم کیا گیا کہ جموں و کشمیر کا الحاق عارضی ہے اور اس کے عوام کی توثیقسے مشروط ہے۔حریت رہنماو¿ں نے کہا کہ دفعہ370 اور 35A مقبوضہ علاقے کو ایک خصوصی حیثیت دیتے تھے جو اس کے مستقل باشندوں کے زمینوں اور روزگار کے حقوق کا تحفظ کرتے تھے۔ انہوں نے کہا کہ ان کی منسوخی سے آبادیاتی تبدیلیوں، بیرونی لوگوں کے لئے زمین کے حصول اور کشمیر کی منفرد سیاسی اور ثقافتی شناخت کے خاتمے کا دروازہ کھل گیا۔ان کا کہنا تھا کہ آئینی تبدیلیاں بھارت کے اپنے آئین کی خلاف ورزی کرتے ہوئے کی گئی ہیں، کیونکہ دفعہ370 کو صرف علاقے کی ہائی کورٹ کے فیصلےکے مطابق ہی تبدیل کیا جا سکتا ہے۔تجزیہ کاروں نے بھارت کے ان دعوو¿ں کو مسترد کر دیا کہ 5 اگست کے اقدامات سے امن بحال ہوا، ترقی میں تیزی آئی اور عسکریت پسندی کا خاتمہ ہوا۔ ان کا کہنا تھا کہ زمینی حقائق مسلسل عسکریت پسندی، سیاسی جبر، معاشی زوال، بے روزگاری اور بنیادی آزادیوں پر پابندیوں کی عکاسی کرتے ہیں۔ انہوں نے مقبوضہ علاقے میں محاصرے اور تلاشی کی مسلسل کارروائیوں،کالے قوانین کے تحت من مانی گرفتاریوں، انٹرنیٹ پابندیوں، سکڑتی ہوئی شہری آزادیوں اور آبادی کے تناسب میں تبدیلیوں کی طرف اشارہ کیا۔انہوں نے کہا کہ کشمیر کی معیشت کے اہم شعبوں بشمول سیاحت، باغبانی، دستکاری اور چھوٹے کاروبار کو 2019 کے اقدامات سے شدید دھچکا لگا ہے، جبکہ ہزاروں لوگ اپنی روزی روٹی سے محروم ہو چکے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ طلبائ، تاجروں اور کاشتکاروں کو طویل غیر یقینی صورتحال کے باعث معاشی اور سماجی مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔تجزیہ کاروں نے کہاکہ مقبوضہ جموں و کشمیر کے عوام نے بھارت کے یکطرفہ اقدامات کو مسترد کیا ہے اوروہ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قراردادوں اور کشمیری عوام کی امنگوں کے مطابق تنازعہ کشمیر کے پرامن حل کا مطالبہ کر رہے ہیں۔انہوں نے اقوام متحدہ، اسلامی تعاون تنظیم اور عالمی برادری پر زور دیا کہ وہ مقبوضہ جموں وکشمیرمیں بھارت کی طرف سے آبادی کے تناسب میں تبدیلیوں اور سیاسی انجینئرنگ کو روکنے کے لیے موثر اقدامات کریں، انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں پر جوابدہی کو یقینی بنائیں اور اقوام متحدہ کی متعلقہ قراردادوں پر عمل درآمد کے ذریعے تنازعہ کشمیر کے منصفانہ اور دیرپا حل میں سہولت فراہم کریں۔

Channel | Group  | KMS on
Subscribe Telegram Join us on Telegram| Group Join us on Telegram
| Apple 

متعلقہ مواد

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button