مقبوضہ جموں و کشمیر

بھارت میں مسلم طلبہ اور تعلیمی اداروں کو درپیش صورتحال پر متحدہ مجلس علما کا اظہارِ تشویش

تعلیم کو سیاست، تعصب اور فرقہ وارانہ مصلحتوں سے بالاتر رکھا جائے ، متحدہ مجلس علما

سرینگر:غیر قانونی طور پر بھارت کے زیر قبضہ جموں وکشمیرمیں کل جماعتی حریت کانفرنس کے سینئر رہنماء میرواعظ محمد عمر فاروق کی زیر صدارت متحدہ مجلس علما جموں و کشمیر نے بھارت میں مسلم طلبہ اور تعلیمی اداروں کو درپیش حالیہ صورتحال پر سخت تشویش کا اظہار کیاہے ۔
کشمیرمیدیاسروس کے مطابق متحدہ مجلس علما کی طرف سے جاری ایک بیان میں کہا کہ اترپردیش میں محمد علی جوہر یونیورسٹی کی 40میں سے 38بلاکس کو منہدم کرنے کی مجوزہ کارروائی کی اطلاعات انتہائی تشویشناک ہیں۔ اس یونیورسٹی میں تقریبا تین ہزار طلبہ زیرِ تعلیم ہیں۔بیان میں یونیورسٹی کے مستقبل کے حوالے سے مسلسل غیر یقینی صورتحال کو افسوسناک قراردیاگیا۔مجلس علمانے کہا کہ یونیورسٹی میں زیرِ تعلیم کشمیری طلبہ نے اس معاملے پر براہِ راست مجلس سے رابطہ کیا ہے، کیونکہ اس صورتحال کا تعلق نہ صرف ان کے تعلیمی مستقبل سے ہے بلکہ ان خاندانوں سے بھی ہے جو اپنے بچوں کو اعلی تعلیم کے حصول کے لیے جموں و کشمیر سے باہر کے تعلیمی اداروں میں بھیجتے ہیں۔متحدہ مجلس علما نے کہا کہ اگر کسی تعلیمی ادارے کے حوالے سے قانونی یا ضابطہ جاتی خلاف ورزیوں کے الزامات ہیں تو ان سے نمٹنے کے لیے باقاعدہ قانونی اور انتظامی طریقہ ار موجود ہے۔ ہزاروں بے قصور طلبہ کے مستقبل کو یونیورسٹی کی عمارتوں کے ساتھ مخدوش نہیںبنایا جا سکتا۔ طلبہ کا ان تنازعات سے کوئی تعلق نہیں اور انہیں ان کی قیمت ادا کرنے پر مجبور نہیں کیا جانا چاہیے۔بیان میں جموں میں ویشنو دیوی انسٹی ٹیوٹ آف میڈیکل ایکسی لینس کی حالیہ بندش کا بھی حوالہ دیا، جس سے وہاں زیرِ تعلیم طلبہ کی پڑھائی متاثر ہوئی اور ان کے مستقبل کے بارے میں غیر یقینی صورتحال پیدا ہوئی۔ مجلس نے کہا کہ میڈیکل کالج میں بڑی تعداد میں مسلم طلبہ کے داخلے پر پیدا ہونے والے تنازع کے بعد ادارے کی بندش سے طلبہ کو ان کی مذہبی شناخت کی بنیاد پر مشکلات کا سامنا کرنا ہے۔بیان میں کہا گیا کہ خواہ معاملہ کسی مسلم انتظامیہ کے تحت چلنے والی یونیورسٹی کو انہدام کے خطرے کا ہو، یا مسلم طلبہ کی پیشہ ورانہ تعلیم اچانک متاثر ہونے کا، اس کا خمیازہ بالآخر طلبہ کو بھگتنا پڑتا ہے ۔متحدہ مجلس علمانے متعلقہ حکام پر زور دیا کہ کسی بھی طالب علم کو مذہب، شناخت یا سیاسی مصلحتوں کی بنیاد پر تعلیمی مواقع سے محروم نہیں کیا جاناچاہیے۔مجلس علمانے کہا کہ تعلیم کو سیاست، تعصب اور فرقہ وارانہ مصلحتوں سے بالاتر رکھا جانا چاہیے۔

Channel | Group  | KMS on
Subscribe Telegram Join us on Telegram| Group Join us on Telegram
| Apple 

متعلقہ مواد

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button