مقبوضہ جموں و کشمیر

مقبوضہ کشمیر:بھارتی فورسز نے 5 اگست 2019 سے اب تک 1ہزار 69 کشمیری شہیدکیے: رپورٹ

سری نگر: بی جے پی کی ہندوتوا بھارتی حکومت نے 5 اگست 2019 کو 370 اور 35 اے دفعات کی غیر قانونی منسوخی کے بعد بھارت کے غیر قانونی زیر قبضہ جموںوکشمیر میں کشمیریوں کے ماورائے عدالت قتل ، بلاجواز گرفتاریوں،جبری گمشدگیوں،ظلم و تشدد اورجائیدادوں کی ضبطی اور سرکاری ملازمتیں چھیننے کے واقعات سمیت وحشیانہ مظالم میں تشویشناک حد تک اضافہ ریکارڈ کیاگیا ہے ۔
کشمیر میڈیا سروس کے ریسرچ سیکشن کی طرف سے آج بھارتی حکومت کے غیر قانونی اور غیر آئینی اقدامات کو 7 سال مکمل ہونے کے موقع پر جاری کی گئی ایک رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ بھارتی فورسز نے اس عرصے کے دوران 22 خواتین اور 48 کمسن لڑکوں سمیت 1ہزار69 کشمیریوں کو شہید کیا ہے۔ رپورٹ میں کہا گیا کہ کہ ان شہادتوں کے نتیجے میں 85 خواتین بیوہ اور 236 بچے یتیم ہوئے ہیں۔رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ محمد اشرف صحرائی، الطاف احمد شاہ، اور غلام محمد بٹ سمیت کل جماعتی حریت کانفرنس کے سینئر رہنما ان 297 کشمیریوں میں شامل تھے جو جعلی مقابلوں یا پولیس حراست میں شہید کیے گئے ۔
رپورٹ میں مزید کہا گیا کہ علاقے میں پرامن مظاہرین اور سوگواروں پر بھارتی فورسز کی جانب سے گولیوں، پیلٹ چھروں اور آنسو گیس کے گولوں سمیت وحشیانہ طاقت کے استعمال سے کم از کم 2ہزار 7سو 8کشمیری شدید زخمی ہوئے۔ بزرگ حریت قائد سید علی گیلانی ستمبر 2021 میں ایک دہائی سے زائد عرصے تک گھرمیںغیر قانونی نظربند ی کے دوران انتقال کر گئے۔ رپورٹ میں کہا گیا کہ اس عرصے کے دوران اور 37ہزار 7سو 36 افراد کو گرفتار کیا گیا، جن میں کم از کم 100 خواتین اور لڑکیاں شامل ہیں۔ رپورٹ میں بتایا گیا کہ گرفتار کیے گئے افراد میں سے بیشتر کے خلاف” پبلک سیفٹی ایکٹ اور یو اے پی اے “ جیسے کالے قوانین کے تحت مقدمات درج کیے گئے۔ بھارتی فوجیوں ، پیرا ملٹری اہلکاروں ، اسپیشل آپریشن گروپ، پولیس وغیرہ نے 1ہزار 2سو 20 سے زائد املاک کو تباہ کیا ۔ جن میں رہائشی مکانات شامل ہیں، 155 خواتین کی بے حرمتی کی گئی۔بھارتی حکومت نے5 اگست 2019 کے بعدمقبوضہ علاقے میں مکمل طورپر ایک بڑی کھلی جیل میں تبدیل کردیا اوربڑی تعداد میں حریت رہنماو¿ں اور کارکنوں، سیاسی و مذہبی شخصیات، خواتین، تاجروں، علمائے کرام، سول سوسائٹی کے اراکین اور نوجوانوں کو گرفتار کر کے جیلوں میں بند کردیا۔ اس وقت مقبوضہ جموںوکشمیر اور بھارت کی جیلوں میں لوگ نظر بند ہیں ان میں حریت کانفرنس کے چیئرمین مسرت عالم بٹ، شبیر احمد شاہ، محمد یاسین ملک، نعیم احمد خان، آسیہ اندرابی، فہمیدہ صوفی، ناہیدہ نسرین، ایاز محمد اکبر، پیر سیف اللہ، راجہ معراج الدین کلوال، شاہد الاسلام، فاروق احمد ڈار، مشتاق الاسلام، مولوی بشیر عرفانی، بلال صدیقی، ایڈووکیٹ میاں عبدالقیوم، ڈاکٹر حمید فیاض، ایڈووکیٹ زاہد علی، ظفر اکبر بٹ، محمد رفیقگنائی، ڈاکٹر محمد قاسم فکتو، ڈاکٹر محمد شفیع شریعتی، سلیم ننہ جی ، فیاض حسین جعفری، حیات احمد بٹ، عمر عادل ڈار، محمد یاسین احمد بٹ، ظہور احمد بٹ، فاروق احمد توحیدی، غلام محمد خان سوپوری، نور محمد فیاض، اسد اللہ پرے، بھارتی پارلیمنٹ کے رکن انجینئر رشید اور دیگر شامل ہیں۔۔ رپورٹ میں افسوس کا اظہار کیا گیا بھارتی حکومت نے علاقے میں آزادی صحافت کا گلا بھی گھونٹ دیا ہے ۔ بھارتی فورسز کی طرف سے صحافیوں کو حراساں اور قید کیا جاتا ہے۔
رپورٹ میں کہاگیاکہ 2020میں مقبوضہ جموں وکشمیرمیں بی جے پی حکومت کی طرف سے متعارف کرائی گئی نئی میڈیا پالیسی نے علاقے میں معلومات تک رسائی کو مزید محدود کر دیا ہے۔ بھارت مقبوضہ کشمیرمیں اپنے مذموم مقاصد کے حصول کے لیے مسلسل ظالمانہ ہتھکنڈے استعمال کر رہا ہے۔ بی جے پی حکومت نے کشمیریوں کے حقوق اور قدرتی وسائل چھین لئے ہیںاور اب وہ مقبوضہ علاقے کی مسلم اکثریتی حیثیت کو تبدیل کرنے میں مصروف ہے۔ اس مقصد کے لیے مقبوضہ علاقے میں ہزاروں بھارتی شہریوںاور دیگر غیر کشمیریوں کو ڈومیسائل سرٹیفکیٹ جاری کئے گئے ہیں۔ آر ایس ایس سے متاثرہ بی جے پی کی قیادت مقبوضہ جموں وکشمیرسے مسلمانوں کا نام ونشان مٹانے کے درپے ہے۔ تاریخی روایات کو مسخ کیا جا رہا ہے اورنصاب تعلیم سے کشمیری، اردو جیسی مقامی زبانوں کی جگہ ہندی اور سنسکرت کوشامل کیاجارہا ہے ۔ آزادی پسند رہنماﺅں اور کارکنوں کی کالے قوانین کے تحت جائیدادیں ضبط کی جا رہی ہیں تاکہ انہیں اپنے جائز مطالبے سے دستبردار ہونے پر مجبور کیا جا سکے۔مودی حکومت نے اسمبلی میں ہندوﺅں کو زیادہ نشستیں دینے کے لیے مقبوضہ جموں وکشمیرمیں نئی حلقہ بندیاں کروائیں ۔اگست 2019 میں مقبوضہ جموں وکشمیرکی خصوصی حیثیت کی غیر قانونی تنسیخ کے بعد سے مقبوضہ جموں و کشمیر میں مسلمانوںکومعاشی پسماندگی کی طرف دھکیلنے کےلئے بی جے پی حکومت نے سینکڑوں سرکاری ملازمین کو جھوٹے الزامات پر برطرف کر دیا ہے۔ اس کے علاوہ بھارتی حکومت نے غیر ریاستی باشندوں کے لیے روزگار کے مواقع میں نمایاں اضافہ کیا ہے اور مقامی کشمیریوں کے حقوق پر ڈاکہ ڈالاہے۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ بدترین بھارتی مظالم کشمیریوں کے جذبہ آزادی کو دبانے میں ناکام رہے ہیں اور وہ استصواب رائے کے مطالبے سمیت اپنے حقوق کے لیے جدوجہد جاری رکھنے کے لیے پرعزم ہیں۔رپورٹ میں کہاگیاکہ بھارتی حکومت کو اس حقیقت کا ادراک کرنا چاہیے کہ وہ کشمیریوں کو طاقت کے بل پرخاموش نہیں کراسکتی۔ عالمی برادری کی یہ ذمہ داری ہے کہ وہ بی جے پی کو مقبوضہ جموں وکشمیرمیں انسانیت کے خلاف جرائم پر جواب دہ ٹھہرائے۔

Channel | Group  | KMS on
Subscribe Telegram Join us on Telegram| Group Join us on Telegram
| Apple 

متعلقہ مواد

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button