مقبوضہ جموں کشمیر:مختلف مقامات پر ”سی آئی کے” چھاپے، ڈیجیٹل آلات ضبط

سرینگر :بھارت کے غیر قانونی زیر قبضہ جموں وکشمیر میں بھارتی پولیس کے خصوصی ونگ” کانٹر انٹیلی جنس کشمیر”( سی آئی کے) نے متعدد مقامات پر چھاپے مارے ہیں۔
کشمیر میڈیا سروس کے مطابق چھاپے بارہمولہ، کپواڑہ، بانڈی پورہ، شوپیاں، اسلام آباد اور دیگر اضلاع میںایک پرانے جھوٹے مقدمے کے سلسلے میں مارے گئے۔ یہ مقدمہ 2023 میں کالے قانون ”یواے پی اے” کے تحت درج کیا گیا تھا۔
بھارتی پولیس اہلکاروں نے پیرا ملٹری اہلکاروں کے ہمراہ گھروں پر چھاپے مارے اور تلاشی کی کارروائیاں عمل میں لائیں جس دوران خواتیں اور بچوں سمیت مکینوں کو سخت ہراساں کیا گیا اور قیمتی گھریلو اشیاء کی توڑ پھوڑ کی گئی۔
تلاشی کارروائیوں کے دوران گھروں ، اراضی اور دیگر جائیدادوں کی ضروری دستاویزت ، لیب ٹاپ ، موبائل فون اور دیگر ڈیجیٹل آلات ضبط کیے گئے۔
یاد رہے کہ بی جے پی کی فرقہ پرست بھارتی حکومت نے فورسز اور ایجنسیوں کو آزاد ی پسند کشمیریوں کو نشانہ بنانے کی کھلی چھٹی دے رکھی ہے۔کشمیریوںکو جھوٹے مقدمات میں ملوث کرنا اور ”پبلک سفیٹی ایکٹ اور یو اے پی اے” جیسے کالے قوانین کے تحت انہیں برسہا برس تک انہیں سلاخوں کے پیچھے ڈالناقابض بھارتی انتظامیہ کا روز کا معمول ہے۔ جبر و استبداد کی ان کارروائیوں کا بنیادی مقصد کشمیریوں کو مقصد ڈرا دھمکا کر تحریک آزادی سے کنارہ کشی اختیار کرنے پر مجبور کرنا ہے۔






