بھارت :چھتیس گڑھ میں ہندو انتہاپسندوں کا عیسائی خاندانوں پر حملہ

رائے پور :بھارتی ریاست چھتیس گڑھ کے ضلع سکما میں ہندو انتہاپسندوں نے کئی عیسائی خاندانوں پر حملہ کیا اور انہیں اپنے گھر چھوڑنے پر مجبور کیاجبکہ گاوں کی پنچایت نے ان کی واپسی پر پابندی لگا دی ہے۔
کشمیرمیڈیاسروس کے مطابق چتل نار گاوں کے عیسائی خاندانوں کو ہراساں کیے جانے، سماجی بائیکاٹ اور نقل مکانی کا سامنا ہے۔ مارچ 2026 میں ہندو انتہاپسندوں نے 10 عیسائی خاندانوں پر حملہ کیا اور ہندوتوا گروپوں نے نام نہاد”گھر واپسی” کا مطالبہ کیا۔ حملے میں زخمی دو افراد کو اسپتال میں داخل کرایا گیا۔جولائی 2026 میں چتلنار کی گرام پنچایت نے پسپل پولیس اسٹیشن کو خظ لکھا کہ مسیحی خاندانوں نے اپنی مرضی سے علاقہ چھوڑ ا ہے۔پنچایت نے اعلان کیا کہ عیسائی مذہب کے لوگوں کو گاوں میں داخل ہونے کی اجازت نہیں ہوگی۔ نائب سرپنچ کے دستخط شدہ اور گرام سبھا کی طرف سے توثیق شدہ خط 13 جولائی 2026 کو پولیس کو موصول ہوا۔بے گھرمسیحی خاندانوں کی مدد کرنے والے ساگر نے صحافیوں کو بتایا کہ شکایات کے باوجود پولیس نے کوئی کارروائی نہیں کی،مسیحی خاندانوں کو گاﺅںچھوڑنے پر مجبور کیا گیا اوروہ اپنی حفاظت کے پیش نظر سکما شہر میں مقیم ہیں۔سول سوسائٹی کی تنظیموںکا کہنا ہے کہ آر ایس ایس سے منسلک تنظیم” جنجاتی سرکشا منچ“نے عیسائیوںکے خلاف مہم کی قیادت کی اور وہ ان کے درج فہرست قبائل کی حیثیت کو ختم کرنے کا مطالبہ کررہی ہے۔ چھتیس گڑھ یووا منچ نے خبردارکیاہے کہ اگر پولیس نے فوری کارروائی نہ کی تووہ احتجاج کریں گے۔








