جواہر لعل نہرو یونیورسٹی نے عمر خالدکی کتاب پر مباحثہ کے مقام کی بکنگ منسوخ کر دی
متبادل مقام پر عمر خالد کی کتاب پر مباحثہ ہوگا، جے این یو طلبہ یونین کا اعلان
نئی دہلی: بھارتی دارلحکومت نئی دلی میں جواہر لال نہرو یونیورسٹی اسٹوڈنٹس یونین نے اس بات کا اعادہ کیا کہ جے این یو کے سابق طالب علم عمر خالد کی کتاب "فریکچرڈ کمیونٹیز: آدیواسی ہسٹریز اینڈ دی پولیٹکس آف پاور” پر طے شدہ مباحثہ مقام کی بکنگ منسوخ ہونے کے باوجود منعقد کیا جائے گا۔
کشمیرمیڈیاسروس کے مطابق یہ مباحثہ عالمی یوم قبائل کے موقع پر 10اگست کو جے این یو کے اسکول آف سوشل سائنسز- ون کے آڈیٹوریم میں سہ پہر تین بجے منعقد کیاجانا تھا۔یونیورسٹی انتظامیہ کی طرف سے مباحثے کیلئے مختص آڈیٹوریم کا اجازت نامہ منسوخ کر نے کے بعد سینکڑوں طلبہ جمع ہوگئے ۔انہوں نے تقریب کا مقام تبدیل کرتے ہوئے اسکول آف سوشل سائنسز-II کی عمارت کے باہر مباحثہ منعقد کرنے کا اعلان کیا ۔جے این یو اسٹوڈنٹس یونین نے انتظامیہ کے اقدام کو طلبہ دشمن اور دانشورانہ سرگرمیوں کو دبانے کی کوشش قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ یونیورسٹی کو تنقیدی سوچ، اختلافِ رائے اور آزادانہ تبادلہ خیال کے لیے محفوظ ماحول فراہم کرنا چاہیے۔طلبہ یونین نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری ایک بیان میں واضح کیا کہ مختص مقام کی اجازت منسوخ کرنے سے مباحثہ منسوخ نہیں ہو گا۔بیان میںاس فیصلے کو ” آمرانہ” قرار دیتے ہوئے کہا گیاہے کہ مقام کی بکنگ منسوخ کرنے سے مباحثہ نہیں رکے گا۔
واضح رہے کہ عمر خالد جو جواہر لعل نہرو یونیوسٹی کے اسٹوڈنٹ لیڈر اور انسانی حقوق کے معروف کارکن ہیں۔وہ2020سے غیر قانونی سرگرمیوں کی روک تھام کے کالے قانون یواے پی اے کے تحت جیل میں قید ہیں۔ ان کے پی ایچ ڈی مقالے کو رواں برس جون میںاس کتاب کی شکل میں شائع کیاگیا تھا جس پر مباحثہ منعقد ہونا تھا ۔







