مضامین

بھارتی یوم آزادی کشمیریوں کیلئے ”یوم سیاہ“

تحریر: امتیاز وانی

آزادی ایک عظیم نعمت ہے۔ آزاد قومیں اپنے قومی دن کو خوشی، فخر اور جوش و جذبے کے ساتھ مناتی ہیں۔ بھارت بھی ہر سال 15 اگست کو اپنا یومِ آزادی مناتا ہے، لیکن اسی دن مقبوضہ جموں و کشمیر کے عوام یومِ سیاہ مناتے ہیں۔ یہ سوال اپنی جگہ انتہائی اہم ہے کہ آخر وہ دن جو بھارت کے لیے جشن کا دن ہے، کشمیری عوام کے لیے احتجاج اور یومِ سیاہ کیوں ہے؟اس سوال کا جواب کشمیر کی تاریخ، بھارتی قیادت کے وعدوں اور اقوام متحدہ کی قراردادوں میں موجود ہے۔کشمیر کے مسئلے کے ابتدائی دور میں بھارتی وزیراعظم پنڈت جواہر لال نہرو نے خود کشمیری عوام کو یقین دہانیاں کرائیں کہ ان کے مستقبل کا فیصلہ ان کی مرضی کے مطابق ہوگا۔ نہرو کے متعدد بیانات میں کشمیری عوام کو اپنے مستقبل کے تعین کے لیے رائے دینے کے اصول کا حوالہ ملتا ہے۔یہ محض سیاسی تقریر یا وقتی بیان نہیں تھا بلکہ مسئلہ کشمیر بین الاقوامی سطح پر بھی اسی اصول کے تحت آگے بڑھا۔
بھارت خود 31 دسمبر 1947ءکے بعد اقوام متحدہ سے رجوع کر چکا تھا اور کشمیر کے معاملے پر اقوام متحدہ کی مداخلت طلب کی۔ 20 جنوری 1948ء کو سلامتی کونسل نے قرارداد 39 کے ذریعے اقوام متحدہ کمیشن برائے ہندوستان و پاکستان کے قیام کی راہ ہموار کی، جبکہ 21 اپریل 1948ءکی سلامتی کونسل قرارداد 47 میں جموں و کشمیر میں امن و امان کی بحالی کے ساتھ رائے شماری کا معاملہ واضح طور پر شامل تھا۔بعد ازاں 5 جنوری 1949ءکی سلامتی کونسل کی قرارداد نے بھی ریاست جموں و کشمیر کے بھارت یا پاکستان سے الحاق کا فیصلہ آزادانہ اور غیر جانب دارانہ رائے شماری کے ذریعے کرنے کے اصول کو بیان کیا۔ اقوام متحدہ کے ریکارڈ میں بھی اس رائے شماری کا مقصد واضح طور پر درج ہے۔تو پھر سوال یہ ہے کہ اگر کشمیر کے مستقبل کا فیصلہ کشمیری عوام کی مرضی سے ہونا تھا، اگر اس اصول کو عالمی سطح پر تسلیم کیا گیا تھا اور اگر خود بھارت اس معاملے کو اقوام متحدہ میں لے کر گیا تھا، تو آج کشمیری عوام سے اس حق کا انکار کیوں کیا جا رہا ہے؟
مقبوضہ جموں و کشمیر کے عوام کے لیے 15 اگست محض بھارت کا قومی دن نہیں بلکہ ان کے نزدیک اس وعدے کی یاد دہانی کا دن بھی ہے جو آج تک پورا نہیں ہوا۔کشمیری عوام کا مو¿قف ہے کہ بھارت اپنے لیے آزادی کا جشن مناتا ہے لیکن اسی خطے کے لوگوں کو اپنے سیاسی مستقبل کا فیصلہ کرنے کا حق نہیں دیتا۔ یہی تضاد 15 اگست کو کشمیریوں کے لیے یومِ سیاہ بنا دیتا ہے۔یومِ سیاہ کا مطلب بھارتی عوام سے نفرت نہیں۔ یہ کشمیری عوام کے حقِ خودارادیت، سیاسی آزادی اور اپنے مستقبل کے فیصلے کے حق کے لیے احتجاج ہے۔
آج دہائیاں گزر چکی ہیں، مگر کشمیری عوام کا بنیادی سوال وہی ہے کہ اگر وعدہ کیا گیا تھا کہ کشمیر کے مستقبل کا فیصلہ کشمیری عوام کریں گے، تو پھر وہ فیصلہ آج تک کیوں نہیں ہونے دیا گیا؟یہی سوال ہر 15 اگست کو مقبوضہ جموں و کشمیر کی گلیوں، بازاروں اور گھروں سے دنیا کے سامنے آتا ہے۔
آزادی صرف ایک پرچم لہرانے یا قومی ترانہ پڑھنے کا نام نہیں۔ آزادی کا اصل مفہوم یہ ہے کہ انسان اور قوم اپنے مستقبل کے بارے میں آزادانہ فیصلہ کر سکیں۔اگر بھارت اپنی آزادی کا جشن منانے کا حق رکھتا ہے تو کشمیری عوام کو اپنے حقِ خودارادیت کا مطالبہ کرنے کا حق کیوں نہیں؟کشمیری عوام بھارتی یوم آزادی کو یوم سیاہ کے طور پر مناکر دنیا کو یہ یاد دلانا چاہتے ہیں کہ کشمیر کا مسئلہ ابھی حل طلب ہے۔ (مصنف کل جماعتی حریت کانفرنس آزاد جموںکشمیرشاخ کے سیکرٹری اطلاعات ہیں)

Channel | Group  | KMS on
Subscribe Telegram Join us on Telegram| Group Join us on Telegram
| Apple 

متعلقہ مواد

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button