بھارت

بھارت: چیف الیکشن کمشنر کے خلاف احتجاج جاری ،مزید 150مظاہرین گرفتار

نئی دہلی: آل انڈیا اسٹوڈنٹس ایسوسی ایشن(اے آئی ایس اے)کی صدر نیہا بورا، سماجی کارکن یوگندر یادو اور سینئر وکیل پرشانت بھوشن سمیت تقریبا 150مظاہرین کو آج اس وقت گرفتار کر لیا گیا جب وہ چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کے خلاف احتجاج اور ان کے استعفے کا مطالبہ کرتے ہوئے پٹیل چوک سے جنتر منتر کی جانب مارچ کر رہے تھے۔
کشمیرمیڈیاسروس کے مطابق اے آئی ایس اے کے ارکان نے بتایا کہ سینئر وکلا کپل سبل، نتیا رام کرشنن، پلو سسودیا اور پرشانت بھوشن کے علاوہ سماجی کارکن یوگندر یادو بھی نیہا بورا اور دیگر طلبہ کے ہمراہ مارچ میں شریک ہوئے۔ پولیس نے مظاہرین کو اس وقت گرفتار کرنا شروع کیا جب وہ احتجاجی مقام کے قریب جمع ہوئے۔
مختلف مقامات پر بھارتی فورسزکے اہلکارتعینات کیے گئے تھے جبکہ جنتر منتر کی جانب جانے والی سڑکوں پر رکاوٹیں کھڑی کی گئی تھیں۔طلباء کاکہنا ہے کہ پولیس کارروائی کے دوران ایک پولیس اہلکار نے نیہا بورا کے ساتھ بدسلوکی کی جبکہ دہلی پولیس کے ایک اور اہلکار نے انہیں گالیاں دیں۔یہ تازہ احتجاج نیہا بورا کی اپیل کے بعد شروع ہوا جنہیں جمعہ کے روز گرفتارکیاگیا تھا۔ انہوں نے کارکنوں سے کہا تھا کہ وہ دوپہر ایک بجے جنتر منتر واپس آئیں اور گیانیش کمار کے استعفے کے مطالبے کے ساتھ ساتھ انتخابی فہرستوں کی خصوصی نظرثانی (SIR)کے خلاف احتجاج جاری رکھیں۔
ایک روزپہلے پولیس اور پیراملٹری اہلکاروں نے مظاہرین کو احتجاجی مقام تک پہنچنے سے روکنے کے لیے جنتر منتر اور اس کے اطراف سے تقریبا ایک ہزار مظاہرین کو گرفتارکیا تھا۔دہلی پولیس نے جمعہ کے احتجاج کے سلسلے میں کم از کم تین ایف آئی آر درج کی ہیں۔ ان میں سے دو پارلیمنٹ اسٹریٹ پولیس اسٹیشن جبکہ ایک کناٹ پیلس پولیس اسٹیشن میں درج کی گئی۔ مقدمات بھارتیہ نیائے سنہتا (BNS) کی دفعہ 223 کے تحت درج کیے گئے ہیں جو کسی سرکاری عہدیدار کی جانب سے جاری کردہ قانونی حکم کی نافرمانی سے متعلق ہے۔
مظاہرین انتخابی فہرستوں کی خصوصی نظرثانی (SIR)اور ووٹر فہرستوں کی نظرثانی میں بے ضابطگیوں کے خلاف احتجاج کر رہے ہیں۔ دہلی پولیس نے جمعہ کے اجتماع کی اجازت دینے سے انکار کر دیا تھا اور وسطی دہلی میں سکیورٹی کے سخت انتظامات کیے تھے۔ جمعہ کے احتجاج کے دوران متعدد سڑکوں پر رکاوٹیں کھڑی کی گئیں جبکہ جنتر منتر کے قریب متعدد میٹرو اسٹیشنوں کے داخلی اور خارجی راستوں کو عارضی طور پر بند کر دیا گیا تھا۔احتجاج کے دوسرے روز بھی جنتر منتر کے اطراف پولیس کی بھاری نفری تعینات رہی، جبکہ اے آئی ایس اے اور دیگر تنظیموں نے اپنا احتجاج جاری رکھا۔

Channel | Group  | KMS on
Subscribe Telegram Join us on Telegram| Group Join us on Telegram
| Apple 

متعلقہ مواد

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button