بھارت :کانگریس صدر نے نریندرمودی کوغیر قانونی وزیر اعظم قراردے دیا
لوک سبھا اور تمام ریاستی اسمبلیاں تحلیل اورنئے انتخابات کرانے کا مطالبہ
نئی دہلی: بھارت میں کانگریس کے صدر ملکارجن کھڑگے نے بھارتی پارلیمنٹ کے ایوان زیریںلوک سبھا اور تمام ریاستی اسمبلیوں کو تحلیل کرنے کا مطالبہ کیا ہے ۔
کشمیرمیڈیاسروس کے مطابق ملکارجن کھڑگے نے ہفتے کے روز ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ملک میں ہوئے تمام انتخابات غیر قانونی ہیں اور اس بنیاد پر وزیر اعظم نریندر مودی، وزیر داخلہ امت شاہ اور ریاستوں کے وزرائے اعلی بھی غیر قانونی ہیں۔ انہوںنے کہا کہ تمام ایوانوں کو تحلیل کر کے نئے سرے سے انتخابات کرائے جائیں اور ان انتخابات میں ای وی ایم کی جگہ بیلٹ پیپر کا استعمال کیاجائے۔
ملکارجن کھڑگے نے کہا کہ آج پورا ملک غیر قانونی انتخابات کی بنیاد پر چل رہا ہے۔ مودی ایک غیر قانونی وزیر اعظم ہیں، شاہ ایک غیر قانونی وزیر داخلہ ہیں اور جہاں بھی وزرائے اعلی منتخب ہوئے ہیں، وہ سب غیر قانونی ہیں۔ ان سب کو تحلیل کر دیا جانا چاہیے، نئے انتخابات ہونے چاہئیں اور انتخابات بیلٹ پیپر کے ذریعے کرائے جانے چاہئیں۔ ملکارجن کھڑکے نے ای وی ایم کے غلط استعمال کا الزام لگاتے ہوئے کہا کہ اس بارے میں ان کے اپنے لوگ بھی بات کر رہے ہیں۔ انہوں نے ملک کی کئی ریاستوں میں جاری ایس آئی آر کے عمل پر سنگین سوالات اٹھائے۔ انہوں نے کہاکہ اس عمل میں حکومت نے کئی بے ضابطگیاں اور غلطیاں کیںجن کا براہ راست اثر جمہوری عمل پر پڑ رہا ہے اور جمہوریت کمزور ہو رہی ہے۔
کانگریس صدر نے ایس آئی آر سے متعلق انڈیا اتحاد کی میٹنگ کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ 30ستمبر کو ہو ئے اجلاس میں 20سیاسی پارٹیوں کے اراکین اور ان کے قانونی سیل کے نمائندے شامل ہوئے تھے۔ کھڑگے کے مطابق میٹنگ میں تمام پارٹیاں اس بات پر متفق تھیں کہ ایس آئی آر ملک کے لیے نقصاندہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس کا سب سے زیادہ اثر غریبوں، کم پڑھے لکھے لوگوں، مزدوروں اور خاص طور پر اقلیتوں پر پڑ رہا ہے۔انہوں نے کہا کہ اپوزیشن ایس آئی آر اور انتخابی عمل کے غلط استعمال کے خلاف پورے ملک میں اپنی تحریک جاری رکھے گی۔
کھڑگے نے سوال اٹھایا کہ اگر کسی ایک بوتھ کی ووٹر لسٹ سے 500ووٹ ہٹا دیے جائیں تو اسے غیر جانبدارانہ انتخاب کیسے کہا جا سکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایک طرف ووٹرز کے نام ہٹانے کی کوشش ہو رہی ہے، وہیں دوسری طرف اب نام شامل کرنے کی کوششیں بھی چل رہی ہیں۔
کھڑگے نے چیف الیکشن کمشنر اور دیگر الیکشن کمشنرز کی تقرری سے متعلق 2023کے قانون پر بھی سوال اٹھائے۔انہوں نے موجودہ حالات پر تشویش ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ اب ملک کو طے کرنا ہوگا کہ جمہوریت کو بچانا ہے یا اسے ختم ہونے دینا ہے۔ انہوں نے کہا کہ 6اکتوبر کو حزب اختلاف کے ارکان پارلیمنٹ الیکشن کمیشن تک مارچ کریں گے۔








