مقبوضہ جموں وکشمیرمیں قابض حکام کی عوام دشمن پالیسیوں کے خلاف احتجاجی مظاہرے
جموں:غیرقانونی طورپر بھارت کے زیر قبضہ جموں وکشمیر میں قابض حکام کی عوام دشمن پالیسیوں اور بڑھتی ہوئی معاشی مشکلات کے خلاف احتجاجی مظاہروں کا سلسلہ جاری ہے۔
احتجاجی مظاہروں سے معاشرے کے معاشی طور پر کمزور طبقات میں بڑھتی ہوئی مایوسی کی عکاسی ہوتی ہے جن کاکہنا ہے کہ یقین دہانیوں اور متعدد درخواستوں کے باوجود ان کی جائز شکایات کو مسلسل نظر انداز کیا جا رہا ہے۔ زندگی گزارنے کے بڑھتے ہوئے اخراجات، غیر محفوظ روزگار اور یوٹیلیٹی اخراجات میں اضافے نے محنت کش خاندانوں اور یومیہ اجرت پر کام کرنے والوں کی مشکلات میں مزید اضافہ کر دیا ہے۔
جموں میں بڑی تعداد میں محکمہ صحت کے کارکنوں نے ڈوگرہ چوک میں مہاراجہ ہری سنگھ کے مجسمے کے قریب احتجاج کیا۔ مظاہرین نے اپنے معمولی معاوضوں میں اضافے اور زیر التوا مراعات کی ادائیگی کا مطالبہ کیا۔ احتجاج کرنے والی خواتین نے کہا کہ وہ نچلی سطح پر صحت عامہ کی اہم خدمات انجام دے رہی ہیں لیکن اس کے باوجود انہیں ناکافی معاوضہ دیاجا رہا ہے۔ انہوں نے کہاکہ ہمیں ماہانہ 3,500 روپے کی اجرت دی جارہی ہے جبکہ بھارتی ریاست مدھیہ پردیش میںکارکنوں کو 6,000 روپے دیے جارہے ہیں، اس کے علاوہ انہیں چھٹی اورسماجی تحفظ کی سہولیات دی جارہی ہیں۔کارکنوں نے اپنی خدمات کو مستقل کرنے کا مطالبہ کیا۔
دریں اثناءادھم پور میں پبلک ہیلتھ انجینئرنگ (پی ایچ ای) کے کارکنوں اور یومیہ اجرت پر کام کرنے والوں نے کئی برس سے اجرتوں کی عدم ادائیگی کے خلاف احتجاج کیا۔ کارکنوں نے کہا کہ طویل مالی غیر یقینی کے باوجود وہ اپنی ذمہ داریاں انجام دیتے رہے ہیں، لیکن انہیں تقریباً چھ سال سے واجب الادا اجرتیں نہیں دی جارہی۔ انہوں نے زیر التوا اجرتوں کی فوری ادائیگی، اپنی خدمات کو مستقل کرنے اور کم از کم اجرت کے قوانین پر عمل درآمد کا مطالبہ کیا۔
مظاہرین نے کہا کہ طویل عرصے سے اجرتوں کی عدم ادائیگی نے بہت سے کارکنوں اور ان کے خاندانوں کو شدید مالی مشکلات سے دوچار کر دیا ہے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ مطالبات کو مسلسل نظر انداز کیے جانے سے ملازمین میں مزید بے چینی پیدا ہوگی ۔ ادھر کٹھوعہ کے علاقے نکیا نڈولیا کے رہائشیوں نے بھاری بھرکم بجلی کے بلوں کے خلاف سڑکوں پر احتجاج کیا۔انہوںنے بجلی کے نرخوں میں نمایاں اضافے اور اسمارٹ میٹرنگ کی شدید مخالفت کرتے ہوئے کہا کہ بجلی کے بڑھتے ہوئے اخراجات غریب خاندانوں اور یومیہ اجرت پر کام کرنے والوں کو خاص طور پر متاثر کر رہے ہیں۔مظاہرین نے کہا کہ بہت سے گھرانے پہلے ہی بنیادی اخراجات پورے کرنے میں مشکلات کا سامنا کر رہے ہیں اور بجلی کے بھاری بلوں نے ان کی مالی مشکلات میں مزید اضافہ کر دیا ہے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ حکام بجلی کے بڑھے ہوئے نرخوں کا جائزہ لیں، بلوں میں موجود غلطیوں اور بے ضابطگیوں کو دور کریں اور معاشی طور پر کمزور طبقات کو ریلیف دیں۔
کارکنوں، ملازمین اور عام شہریوں کے یہ احتجاج لوگوں میں بڑھتی ہوئی بے اطمینانی کو ظاہر کرتے ہیں جبکہ ان کے دیرینہ مسائل بدستور حل طلب ہیں۔ احتجاج کا یہ سلسلہ مقبوضہ جموں وکشمیر میں روزگار کے عدم تحفظ، ناکافی سماجی تحفظ اور ضروری خدمات کی بڑھتی ہوئی قیمتوں پر لوگوں میں پائے جانے والے تشویش کی عکاسی کرتا ہے۔







