بھارتی یوم آزادی کے موقع پر چندی گڑھ میں سکھوں کا احتجاجی مظاہرہ، نظربند سکھوں کی رہائی کا مطالبہ
پولیس کااحتجاجی مظاہرین کے خلاف واٹر کینن اور آنسو گیس کا استعمال، مظاہرین کا پولیس پر پتھراو¿

چندیگڑھ: بھارتی یوم آزادی کے موقع پر چندی گڑھ میں سکھوں نے زبردست احتجاجی مظاہرہ کرتے ہوئے نظربند سکھوں کی فوری رہائی کا مطالبہ کیاہے۔
کشمیرمیڈیاسروس کے مطابق بھارتی پولیس نے احتجاجی مظاہرین کو روکنے کے لئے ان کے خلاف واٹر کینن اور آنسو گیس کا استعمال کیا جبکہ مظاہرین نے پولیس پر پتھراو¿ کیا۔ بھارتی پولیس نے” قومی انصاف مورچہ“کے زیر اہتمام چنڈی گڑھ-موہالی سرحد پر نظربندسکھوں کی رہائی کا مطالبہ کر نے والے مظاہرےن پر واٹر کینن اور آنسو گیس کا استعمال کیا۔ بھارتی ذرائع ابلاغ کی ایک رپورٹ کے مطابق مظاہرین نے پولیس پر پتھراو¿ کیا۔ مظاہرین نے چنڈی گڑھ میں واقع لوک بھون کی طرف مارچ کا اعلان کیاتھا۔جبکہ پنجاب اور چنڈی گڑھ کو جوڑنے والی سڑکوں پر بھارتی پولیس کی بھاری نفری تعینات اور روکاوٹیں کھڑی کی گئی تھی۔جگتار سنگھ ہوارا کے والد باپو گ±رچرن سنگھ نے کہا کہ جمہوریت میں پرامن احتجاج ہمارا بنیادی حق ہے۔ ہم 3 سال سے زیادہ عرصے سے یہاں امن و امان کے ساتھ بیٹھے ہیں لیکن حکومت ہمیں انصاف دینے کو تیار نہیں ہے۔ اسی لیے یوم آزادی کے دن ہم نے کالے جھنڈے لے کر پرامن مارچ اور احتجاجی مظاہرہ کیا۔ ہمارا مقصد پوری طرح پرامن ہے لیکن حکومت اس پرامن احتجاج میں رکاوٹیں کھڑی کر رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہم نے کبھی بیریکیڈ نہیں توڑے، ہم پولیس کے ساتھ تعاون کرنے کے لیے تیار ہیں لیکن بلاوجہ کی بیریکیڈنگ سے تناو¿ پیدا ہو رہا ہے اور ہمیں ایسی صورتحال کی طرف دھکیلا جا رہا ہے جو ہم نہیں چاہتے۔ ہمارا بنیادی مطالبہ حراست میں لیے گئے سکھوں کی رہائی ہے، ابھی ہم ان میں سے ایک کے لیے 10 دن کی پیرول کا مطالبہ کر رہے ہیں تاکہ وہ اپنی ماں سے مل سکے جو طویل عرصے سے شدید بیمار اور بستر پر ہیں۔رپورٹ کے مطابق مظاہرین جن سکھ قیدیوں کو رہا کرنے کا مطالبہ کر رہے ہیں ان میں جگتار سنگھ ہوارا، بلونت سنگھ راجوانا، جگتار سنگھ تارا، پرمجیت سنگھ بھیورا، دیویندرپال سنگھ بھلر، گ±ردیپ سنگھ کھیڑا، لکھوندر سنگھ لکھا، گ±رمیت سنگھ اور شمشیر سنگھ کے نام شامل ہیں جو طویل عرصے سے جیلوں میں بند ہیں۔ مظاہرین کا کہنا ہے کہ یہ تمام افراد اپنی طے شدہ سزا پوری کر چکے ہیں، اس لیے انہیں فوری طور پر رہا کیا جانا چاہیے۔






