بھارت:کسانوں کا دہلی کی طرف مارچ کا اعلان، کھنوری بارڈر سیل، سڑکیں بند

نئی دہلی: بھارت میں کسانوں نے دہلی کی طرف مارچ کا اعلان کردیا اور انتظامیہ نے کسانوں کے مارچ کوروکنے کے لئے ہریانہ-پنجاب کے کھنوری بارڈر کو سیل کر دیاہے۔
کشمیرمیڈیاسروس کے مطابق کسانوں کی جانب سے اتوار (16 اگست) کو دہلی مارچ کے اعلان کے پیش نظرانتظامیہ نے سڑکوں پر رکاوٹیں کھڑی کردی ہیں۔ کسان رہنما جگجیت سنگھ ڈلیوال نے اعلان کیا کہ ’سنیکت کسان مورچہ‘کی جانب سے بھارت-امریکہ تجارتی معاہدے کے خلاف 16 اگست سے 228 کلومیٹر طویل ’کسان بچاو¿ پیدل یاترا‘ شروع کی جائے گی۔یہ پیدل مارچ 16 اگست کو داتاسنگھ والا سے شروع ہو کر 29 اگست کو دہلی کے جنتر منتر پہنچے گا۔جگجیت سنگھ ڈلیوال کی جانب سے دہلی مارچ کی اپیل کے بعد ہریانہ پولیس نے پنجاب-ہریانہ کھنوری بارڈر پر دہلی جانے والی سڑک کو سیل کر دیا ہے۔ بھارتی ذرائع ابلاغ کی ایک رپورٹ کے مطابق جیند میں ہفتہ (15 اگست) کو کسانوں اور پولیس کے درمیان جھڑپیں ہوئیں۔ واضح رہے کہ کسان بھارت-امریکہ تجارتی معاہدے کے خلاف احتجاج کر رہے ہیں۔ جگجیت سنگھ ڈلیوال کی قیادت میں کسان پیدل مارچ کر رہے ہیں۔ مارچ 29 اگست کو دہلی پہنچے گا۔ کسانوں کے دہلی مارچ کے اعلان کے بعد پولیس نے ناکہ بندی شروع کر دی ہے۔ مارچ کو روکنے کے لیے انتظامیہ نے 5 سطحی بیریکیڈنگ کی ہے۔ ساتھ ہی بڑی تعداد میں پولیس اہلکار تعینات کیے گئے ہیں۔ انتظامیہ نے سیکورٹی کے سخت انتظامات کیے ہیں۔کسانوں نے انتظامیہ کو خبردار کیا ہے کہ اگر پولیس نے انہیں مارچ کرنے سے روکنے کی کوشش کی تو ہم وہیں پر غیر معینہ مدت کے لیے دھرنا اور احتجاج شروع کر دیں گے۔








