بھارت اور بنگلہ دیش کے تعلقات میں کشیدگی سیاسی الزامات سے کھیلوں کے بائیکاٹ تک پہنچ گئی
ڈھاکا:
بھارت اور بنگلہ دیش کے درمیان تعلقات میں گزشتہ ایک سال سے کشیدگی جاری ہے، جو سیاسی الزامات سے شروع ہو کر تجارتی اور سفارتی تعلقات تک پھیل چکی ہے۔ حالیہ دنوں میں دونوں ممالک نے ایک دوسرے کے خلاف کھیلوں کے بائیکاٹ کی طرف قدم بڑھایا ہے۔
کشمیرمیڈیاسروس کے مطابق 2024میں بنگلہ دیش کی بھارت نواز وزیراعظم شیخ حسینہ واجد کی حکومت کے خاتمے کے بعد دونوںملکوں کے درمیان کشیدگی میں اضافہ ہو ا۔ احتجاجی تحریک کے نتیجے میں حسینہ بھارت فرار ہو گئیں، جس پر بنگلہ دیش کی عبوری حکومت اور عوام نے بھارت پر تنقید کی کہ وہ حسینہ کو واپس نہیں کر رہا تاکہ وہ اپنے ملک میں انصاف کا سامنا کر سکیں۔ بھارت نے گزشتہ ماہ چٹا گرام میں اپنے سفارتخانے کی سروسز معطل کر دیں، جس کے بعد بنگلہ دیش نے بھی بھارت کیلئے ویزا سروسز روک دیں۔ ہندو دائیں بازو کے گروپوں کے احتجاج کے نتیجے میں بھارتی کرکٹ بورڈ نے بنگلہ دیش کے کھلاڑی کو آئی پی ایل میں شرکت کی اجازت نہیں دی۔ اس کے جواب میں بنگلہ دیش نے اعلان کیا کہ وہ کرکٹ ورلڈ کپ کیلئے بھارت نہیں جائے گا اور کھیلوں کے عالمی حکام سے درخواست کی کہ میچز کسی نیوٹرل مقام پر منتقل کیے جائیں۔یہ کشیدگی دونوں ممالک میں ہونے والی سیاسی تبدیلیوں سے مزید پیچیدہ ہو گئی ہے۔ بھارت کیلئے بنگلہ دیش میں سیاسی اتھل پتھل نے خطے میں چینی اثرورسوخ کا مقابلہ کرنے کی کوششوں کو مزید پیچیدہ بنا دیا ہے۔بنگلہ دیش میں 2026میں پارلیمانی انتخابات ہونے ہیں اور ان انتخابات میں بھارت کے خلاف غصے کو ایک اہم انتخابی ایشو بنایا گیا ہے۔ بنگلہ دیش کی عبوری حکومت کے رہنما محمد یونس بھارت سے حسینہ کو واپس بھیجنے یا ان کے پارٹی ارکان کی پناہ نہ دینے کی درخواست کر رہے ہیں، مگر بھارت نے اس پر ردعمل ظاہر نہیں کیا۔ بھارت کے پروحکومتی چینلز نے محمد یونس کو انتہاپسندی کے حامی کے طور پر پیش کیا ہے۔ یہ کشیدگی بھارت کے اندر بھی ایک انتخابی مسئلہ بن چکی ہے، خاص طور پر مغربی بنگال اور آسام میں، جہاں ہندو حقوق کے لیے ہونے والے مظاہروں نے بھارت میں سیاسی درجہ حرارت کو بڑھا دیا ہے۔ماہرین کے مطابق دونوں ممالک کے درمیان اس کشیدگی کے باوجود دونوں حکومتیں اس کے اثرات کو محدود کرنے کی کوشش کر رہی ہیں۔ بھارت بنگلہ دیش میں متوقع انتخابات کیلئے بنگلہ دیش نیشنل پارٹی کے ساتھ تعلقات مضبوط کرنے کی کوشش کر رہا ہے، جو کہ حسینہ کے حریف رہے ہیں۔اس کے علاوہ، بنگلہ دیش کی اسلامی جماعت جماعت اسلامی بھی بھارت کیلئے ایک پیچیدہ چیلنج بن چکی ہے، جو اسلام پسند سیاست کے بڑھتے ہوئے اثرات کی نمائندگی کرتی ہے۔بھارت کی خارجہ پالیسی کے ماہر کانسٹنٹینو زیویئر نے کہا کہ بھارت صرف انتخابات کے حوالے سے نہیں بلکہ بنگلہ دیش میں جاری سیاسی بحران اور طویل المدتی حکمت عملی کے بارے میں بھی فکر مند ہے۔ وہ سمجھتے ہیں کہ پانچ یا چھ سال بعد جماعت اسلامی حکومت میں آ سکتی ہے اور بھارت کو اس کیلئے اپنی پالیسی پر نظرثانی کرنی ہوگی۔






