بھارت میں بڑھتی ہوئی عدم برداشت، مغربی بنگال میں کانگریس رہنما اوراس کا بیٹا قتل

نئی دہلی : بھارت میں بڑھتی ہوئی سیاسی عدم برداشت اور ٹارگٹڈ تشدد کے ایک اورواقعے میں مغربی بنگال میں مزید دو جانیں ضائع ہوئیں جس میں کانگریس کے سابق رہنما انیس الرحمن اور ان کے قانون کے طالب علم بیٹے ابو سفیان کو ناکشی پارہ میں گھر کے قریب گولی مار کر قتل کر دیاگیا ہے۔
کشمیر میڈیاسروس کے مطابق باپ بیٹے کو ہفتے کی شام بیتھوعہ سے واپسی پر ان کے گھر سے صرف 200 میٹر کے فاصلے پر ناگاڈی ریلوے پھاٹک کے قریب گھات لگا کرنشانہ بنایا گیا۔ حملہ آوروں نے ان کی گاڑی کو روکا، فائرنگ کی اور پھر ان کی موت کو یقینی بنانے کے لیے تیز دھار ہتھیاروںسے حملہ کیا۔ مقتولین کے اہلخانہ نے سیاسی بنیادوں پر کئے گئے حملے کا ذمہ دار جیل میں بند ترنمول کانگریس کے لیڈر جبار شیخ اور ان کے ساتھیوں کو قراردیا اور دعویٰ کیا کہ حراست میں ہونے کے باوجود قتل کی منصوبہ بندی اسی نے کی ہے۔ پولیس نے لاشیں اپنے قبضے میں لے کر تفتیش شروع کر دی ہے جبکہ علاقے میں کشیدگی کے باعث پولیس کی بھاری نفری تعینات کر دی گئی۔مغربی بنگال میں کانگریس کے صدر سبھانکر سرکار نے ان ہلاکتوں کی مذمت کی اور اتوار کو ریاست بھر میں یوم سیاہ منانے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ انڈین نیشنل کانگریس ریاست میں اقلیتوں اور اپوزیشن کی آواز کو دبانے کی کوششوں کے خلاف اپنی جدوجہد جاری رکھے گی۔
ایک اورواقعے میں بنکورا کے انڈس بلاک میںسی جے پی کے کارکن شیخ ریک اور اس کے والد پر گھر پر حملہ کیا گیا اور انہیں شدید زخمی کردیا گیا۔کارکنوں کاکہنا ہے کہ اسے”اسکول ٹھیک کرو“کی مہم پر نشانہ بنایا گیاہے۔ پے درپے حملے بھارت میں سیاسی سرگرمیوں کے لئے سکڑتی ہوئی گنجائس اور حزب اختلاف کے کارکنوںکے خلاف بڑھتے ہوئے تشددکی عکاسی کرتے ہیں۔







