بڑھتے ہوئے نفرت انگیز حملوں کے باعث بھارت میں کشمیری شال فروش مسلسل خوف کا شکار

نئی دہلی : دارالحکومت نئی دہلی سمیت مختلف بھارتی علاقوں میں کام کرنے والے کشمیری شال فروشوں کا کہنا ہے کہ بڑھتی ہوئی مسلم دشمنی اور کشمیر دشمنی کے باعث وہ حملوں اور ہجومی تشدد کی وجہ سے مسلسل خوف ودہشت کا شکار ہیں لیکن معاشی تنگی کے باعث وہ وادی سے باہر کام کرنے پر مجبورہیں۔
کشمیر میڈیا سروس کے مطابق تقریباً 50 کشمیری شال فروش روزانہ نئی دہلی میں گولچہ سینما کے قریب جمع ہوتے ہیں اور دستکاری فروخت کرنے کے لیے نکلتے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ 2014 کے بعد سے ماحول تیزی سے تبدیل ہواہے، نفرت انگیز واقعات اور کشمیر دشمن خیالات نے ان کی روزی روٹی کو متاثر کیا ہے۔ سخت سردیوں میں روزی روٹی کمانے کے لیے نومبر سے مارچ تک بھارت کے مختلف علاقوں میں کام کرنے والے کشمیریوں کا کہنا ہے کہ اب وہ اپنی سرگرمیوں کو مسلم اکثریتی علاقوں اور ان مقامات تک محدود رکھتے ہیں جن علاقوں کو وہ اچھی طرح جانتے ہیں اوران علاقوں سے گریز کرتے ہیں جہاں دائیں بازو کے گروہ سرگرم ہیں۔ان کا کہنا ہے کہ 2019 کے پلوامہ واقعے کے بعد حملوں میں شدت آئی ہے، جبکہ بھارت-پاکستان کرکٹ میچوں ، ہندو تہواروں اور بھارت نواز نعروں پر تنازعات کے دوران پیش آنے والے واقعات عدم تحفظ کو ہوا دیتے ہیں۔انہوں نے کہاکہ ہماچل پردیش اور ہریانہ میں کشمیری شال فروشوں کے ساتھ بدسلوکی اور حملوںنے دہلی میں ان کے خوف کو مزید بڑھا دیا ہے۔انہوں نے کہاکہ جب بھی ہم اس طرح کے واقعات کے بارے میں سنتے ہیں، ہمارے دل و دماغ خوف میں مبتلاہوجاتے ہیں اور ہم کاروبارکے لئے باہرجانے سے ڈرتے ہیں۔پہلگام سے تعلق رکھنے والے71 سالہ گل محمد میر نے کہا کہ اس طرح کے واقعات سے ہم کانپ اٹھتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ مقبوضہ جموں وکشمیر کی انتظامیہ کی جانب سے وادی سے باہر کام کرنے اور تعلیم حاصل کرنے والے کشمیریوں کی حفاظت کو یقینی بنانے کے لیے کچھ نہیںکیاجارہا ہے۔







