مقبوضہ جموں و کشمیر

بھارتی یوم آزادی کی تقریبات میں وقف بورڈ کا کیا کام ہے : زائرہ وسیم

سرینگر:غیرقانونی طورپر بھارت کے زیر قبضہ جموں وکشمیر میں سابق اداکارہ زائرہ وسیم نے علاقے میں 15 اگست کی تقریبات میں وقف بورڈ کے کردار پر سوال اٹھاتے ہوئے کہا ہے کہ کیا کسی مذہبی ادارے کے لیے اس طرح کی تقریبات میں اپنا نام استعمال کرنامناسب ہے؟
کشمیر میڈیا سروس کے مطابق زائرہ وسیم نے جنہوں نے 2019 میں فلمی صنعت کو یہ کہتے ہوئے چھوڑدیاتھا کہ اس پیشے کی وجہ سے مذہب کے ساتھ اس کے تعلق کوخطرہ ہے، کہا کہ اسے کشمیر کے ایک اسکول کا ایک کلپ ملا جس میں 15 اگست کی تقریب وقف بورڈ کے لیے یا اس کی جانب سے منعقد کی گئی تھی۔ انہوں نے کہاکہ میرا ایک سوال ہے، کیا وقف بورڈ ایک مذہبی ادارہ نہیں ہے جسے مسلم کمیونٹی کی خدمت کرنے کی ذمہ داری دی گئی ہے اورجسے اسلامی اقدار کو برقرار رکھتے ہوئے ایسا کرنا ہے؟زائرہ.وسیم نے اسے مضحکہ خیزقرار دیتے ہوئے کہا کہ ایک مذہبی مقصد کے لئے بنایاگیا ادارہ ایک سرکاری تقریب کے مزے لوٹ رہاہے جس پر کم از کم سوال کرنا چاہیے۔انہوں نے کہا کہ یہ ادارہ اپنے نام پرایسی تقریبات منعقدکراتا ہے جن میں ہمارے بچوں اور خاص طور پر لڑکیوں کو اسٹیج پر رقص کروایاجاتا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ عوامی تقریبات میں غیر متعلقہ گانوں پر ہمارے بچوں خاص طورپر لڑکیوں کو رقص کروانا کیوں ضروری ہے؟ انہوں نے سوال اٹھایاکہ ہمارے ادارے انہیں سوچنے، تخلیق کرنے، سیکھنے یا بحث کرنے کرنے کے لیے کچھ کیوں نہیں دے رہے؟ انہوں نے کہا کہ یہ مسئلہ خاص طور پرکشمیر جیسی جگہ میں اہم ہے جہاں ان لوگوں کی ایک قابل ذکر میراث ہے جو تعلیم کو ذہنوں کو روشن کرنے، کردار سازی اور لوگوں کو علم اور روحانیت سے آراستہ کرنے کا ذریعہ سمجھتے ہیں۔ زائرہ وسیم نے کہا کہ اگر کسی ادارے کا وجود مذہبی مقصد سے جڑا ہوا ہے تو اسے کمیونٹیز کو روحانی، اخلاقی اور فکری طور پر مضبوط کرنے کا سنجیدہ کام سونپا جاتا ہے۔ انہوں نے کہاکہ بات بچوں کی نہیں ہے، بچوں کو اکثر سکولوں اور اداروں کی طرف سے جو کچھ بھی ان کے سامنے رکھا جاتا ہے اس میں حصہ لینے کے لیے کہا جاتا ہے۔شاید یہی اصل المیہ ہے یہاں سوال یہ ہے کہ کوئی ادارہ اپنے جھنڈے تلے کیا چیز پیش کرتا ہے۔زائرہ وسیم نے 2016 میں عامر خان کی فلم دنگل سے بالی ووڈ میں قدم رکھاتھاجس کے لیے انہوں نے بہترین معاون اداکارہ کا ایوارڈ جیتا تھا۔

Channel | Group  | KMS on
Subscribe Telegram Join us on Telegram| Group Join us on Telegram
| Apple 

متعلقہ مواد

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button