بھارتی حکومت کشمیریوں کے سیاسی مطالبات کو دبانے کے لیے کالے قوانین کا بے دریغ استعمال کر رہی ہے ، ماہرین

سرینگر : بھارت کے غیر قانونی زیر قبضہ جموں و کشمیر میں سیاسی ماہرین اور تجزیہ کاروں نے کہا ہے کہ بھارت اقوام متحدہ کے تسلیم شدہ استصواب رائے اور بھارتی قبضے سے آزادی کے لیے کشمیری عوام کے جائز سیاسی مطالبات کو دبانے کے لیے کالے قوانین او ر بڑے پیمانے پر فوجی ہتھکنڈے استعمال کر رہا ہے۔
کشمیر میڈیاسروس کے مطابق سیاسی ماہرین اور تجزیہ کاروں نے” آج انسانی ہمدردی کے عالمی دن ” پرسرینگر میں اپنے انٹرویوز اور بیانات میں کہا کہ بھارتی قبضے میں کشمیری گزشتہ کئی دہائیوں سے انتہائی مصائب و مشکلات کی زندگی گزار رہے ہیں ، بھارت نے انسانی حقوق کی بین الاقوامی تنظیموں، غیر ملکی صحافیوں اور اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کے تفتیش کاروں کو مقبوضہ جموں و کشمیر کے آزادانہ دورے سے روک رکھا ہے ۔ انہوںنے کہا کہ اگست 2019 میں دفعہ 370 کی منسوخی کے بعد پابندیوں اور سختیوں میںمزید تیزی لائی گئی اورآزاد اداروں، غیر ملکی وفود اور اقوام متحدہ کے خصوصی نمائندوں کی مقبوضہ علاقے میں آزادانہ رسائی کی درخواستیں مسترد کی گئیںجبکہ متنازعہ علاقے میں مقامی سول سوسائٹی گروپوں، انسانی حقوق کے محافظوں اور صحافیوں کو ریاستی پابندیوں کا سامنا کرنا پڑا ہے۔انہوںنے کہا کہ بھارتی حکومت نے انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں اور ریاستی جبر کو بین الاقوامی جانچ سے دور رکھنے کی کوشش میں انسانی حقوق کے عالمی کارکنوں اور تنظیموں کو علاقے میں آزادانہ کام کرنے سے روک رکھا ہے۔ انہوں نے کہا کہ بی جے پی حکومت نے آرمڈ فورسز سپیشل پاورز ایکٹ ۔ پبلک سیفٹی ایکٹ ، یو اے پی اے ، ڈسٹربڈ ایریاز ایکٹ، انسداد دہشت گردی ایکٹ جیسے کالے قوانین کا بے دریغ استعمال کیا ہے غیر ملکی امدادی کارکنوں کو بھی ویزوں کے حصول میں مشکلات کا سامنا کرنا پڑا ہے، جس کی وجہ سے مظلوم کشمیری آبادی کو بین الاقوامی انسانی امداد میسر نہیں ہے۔تجزیہ کاروں نے کہا کہ ان کالے قوانین کا سیاسی اور سماجی سرگرمیوں کو محدود کرنے اور ہزاروں لوگوں کو گرفتار کرنے کے لیے استعمال کیا گیا ہے، جن میں سیاسی رہنما، کارکن اور سول سوسائٹی کے ارکان شامل ہیں، جنہیں مقبوضہ علاقے اور بھارت کی مختلف جیلوں میں نظر بند کیا گیا ہے۔انہوں نے بھارتی فورسز اور بدنام زمانہ بھارتی تحقیقاتی اداروں کی طرف سے سری نگر، گاندربل، بڈگام، بارہمولہ، کپواڑہ، کولگام، شوپیاں، پلوامہ، اسلام آباد،، بانڈی پور اور دیگر علاقوں میں محاصرے اور تلاشی کی کارروائیوں اور گھروں پر چھاپوں کے دوران شہریوں کو نشانہ بنائے جانے پر شدید تشویش کا اظہار کیا۔ ماہرین اور تجزیہ کاروں نے کہا کہ انسانی حقوق کی بین الاقوامی تنظیموں نے مقبوضہ علاقے میں محاصرے اور تلاشی کی کارروائیوں، گھروں پر چھاپوں ، خواتین کی بے حرمتی اور غیر قانونی حراستوں کے کیسز کو دستاویزی شکل دے رکھی ہے۔ انہوں نے افسوس کا اظہار کیا کہ انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں میںملوث بھارتی فورسز اہلکاوںکو کبھی بھی سزا نہیںدی جاتی اور متاثرین انصاف کے لیے در در کی ٹھوکریںکھاتے ہیں۔انہوں نے اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کونسل، اسلامی تعاون تنظیم، ایمنسٹی انٹرنیشنل، ہیومن رائٹس واچ اور دیگر بین الاقوامی اداروں سے اپیل کی کہ وہ کشمیری نظر بندوں کی حالت زار کا جائزہ لینے کیلئے اپنی فیکٹ فائنڈنگ ٹیموںکو مقبوضہ علاقے میںداخلہ دینے کیلئے بھارت پردبائو ڈالیں۔








