جموں وکشمیر عالمی سطح پر تسلیم شدہ متنازعہ خطہ ہے ، حریت کانفرنس
امریکی سفیر کا بیان افسوسناک ، قابل مذمت ہے، ترجمان

سرینگر : بھارت کے غیر قانونی زیر قبضہ جموں وکشمیر میں کل جماعتی حریت کانفرنس نے بھارت میں امریکی سفیر سرجیو گور کیطرف سے سرینگر کے دورے کے دوران کشمیر کو بھارت کا ایک اہم حصہ قرار دینے کے بیان کی شدید مذمت کی ہے۔
کشمیرمیڈیاسروس کے مطابق حریت کانفرنس کے ترجمان ایڈوکیٹ عبدالرشید منہاس نے سرینگر میں جاری ایک بیان میں کہا کہ کشمیر ایک طویل عرصے سے زیر التوا بین الاقوامی تنازعہ ہے جو اقوام متحدہ کے ایجنڈے پر موجود ہے۔امریکی سفیر سرجیو گور نے گزشتہ روز(19 اگست) مقبوضہ جموں و کشمیر کے گرمائی دارلحکومت سری نگر کا دورہ کیا ۔ انہوں نے دورے کے دوران علاقے کے کٹھ پتلی وزیر اعلی عمر عبداللہ سے ملاقات کے بعد خطے کو بھارت کا ایک اہم حصہ قرار دیا اور یہ بھی اشارہ دیا کہ امریکہ اس علاقے کے لیے اپنی سفری پابندیوں پر نظرثانی کر ے گا ۔حریت کانفرنس کے ترجمان نے امریکی سفیر کے ریمارکس کی مذمت کرتے ہوئے اس بات کا اعادہ کیا کہ بھارت نے جموں و کشمیر پر طاقت کے بل پر قبضہ جما رکھا ہے ، تصفیہ طلب تنازعہ کشمیر کی وجہ سے جنوبی ایشیا کا خطہ مسلسل ایک غیر یقینی صورتحال سے دوچار ہے ، مسئلہ حل نہ ہونے کی وجہ سے کشمیری گونا گوں مسائل ومشکلات کا شکار ہیں ۔ ترجمان نے واضح کیا کہ کشمیری عوام بھارتی تسلط سے آزادی او ر اقوام متحدہ کی طرف سے تسلیم شدہ اپنے پیدائشی حق ، حق خووارادیت کے لیے بے مثال قربانیاں دے رہیں۔جموں وکشمیر قطعاً بھارت کا اندرونی معاملہ نہیں ہے بلکہ عالمی سطح پر تسلیم شدہ ایک بین الاقوامی تنازعہ ہے۔ عبدالرشید منہا س نے کہا کہ تنازعے کے کسی بھی بامعنی اور دیرپا حل کے لیے جموں و کشمیر کی متنازعہ نوعیت کو تسلیم کرنے اور کشمیر یوں اور پاکستان کو تنازعہ کے بنیادی فریقوں کے طور پر شامل کرنے کی ضرورت ہے۔ترجمان نے امریکہ پر زور دیا کہ وہ تنازعہ کشمیر کے پرامن حل میں سہولت کاری کے لیے فعال کردار ادا کرے اور جموں و کشمیر کے مظلوم عوام کے حق خودارادیت کی بھر پور حمایت کرے، جنہیں ان کے بنیادی سیاسی حقوق سے محروم رکھا گیا ہے۔حریت کانفرنس کے ترجمان نے مزید کہا کہ ایسا لگتا ہے کہ امریکی سفیر جموں و کشمیر کی متنازعہ حیثیت کے بارے میں دیرینہ بین الاقوامی موقف سے لاعلم ہے۔ انہوںنے کہا کہ موجودہ امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کئی مرتبہ تنازعہ کشمیر پر ثالثی کی پیشکش کر چکے ہیں لہذاامریکہ کا جموںوکشمیر کو بھارت کا حصہ قرار دیناناقابل فہم ہے اور کشمیر کے بارے میں ہندوتوا تنظیموں بی جے پی ، آرایس ایس کے مذموم ایجنڈے کو تقویت دیتا ہے۔ترجمان نے کہا کہ امریکہ واقتعاً جموںوکشمیر کے بارے میں اپنا ایک دیرینہ اور تاریخی موقف رکھتا ہے کہ یہ ایک متنازعہ خطہ ہے اور تنازعہ کشمیر کا پاکستان اور بھارت کو کشمیریوں کی خواہشات کے مطابق پر امن بات چیت کے ذریعے حل نکالنا چاہیے ۔انہوںنے امریکہ اور عالمی طاقتوں پر زور دیا کہ وہ کشمیر پر بھارت کے ہٹ دھرمانہ اور غیر حقیقت پسندانہ موقف کا نوٹس لیکر اس مسئلے کے حل کیلئے اس پر دبائو ڈالیں۔




