سرینگر: ” ڈی ایف پی ” کی امریکی سفیر برائے بھارت کے متنازعہ بیان کی مذمت

سرینگر : بھارت کے غیر قانونی زیر قبضہ جموں کشمیر میں ڈیموکریٹک فریڈم پارٹی(ڈی ایف پی ) نے امریکی سفیر برائے بھارت سرجیو گور کی جانب سے اپنے دورہ سری نگر کے موقع پر جموں و کشمیر کو بھارت کا اہم حصہ قرار دینے پر شدید افسوس اور مذمت کا اظہار کیا ہے۔
کشمیر میڈیاسروس کے ڈیموکریٹک فریڈم پارٹی کے ترجمان ایڈووکیٹ ارشد اقبال نے سرینگر میں جاری ایک بیان میں کہا کہ امریکی سفیر کا یہ بیان نہ صرف کشمیری عوام کے بنیادی سیاسی اور تاریخی موقف کے منافی ہے بلکہ جموں و کشمیر کی متنازع حیثیت سے متعلق اقوام متحدہ کی قراردادوں سے بھی مطابقت نہیں رکھتا۔ انہوں نے کہا کہ کسی ریاست کا متنازع خطے کے ایک حصے میں انتظامی کنٹرول قائم ہونا اس خطے کی حتمی قانونی حیثیت کا فیصلہ نہیں کرتا۔انہوں نے کہا کہ جموں و کشمیر کا تنازع گزشتہ کئی دہائیوں سے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے ایجنڈے پر موجود ہے اور کونسل کی متعدد قراردادیں کشمیری عوام کے حقِ خودارادیت اور مسئلے کے پرامن حل سے متعلق ہیں۔ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل آج بھی جموں و کشمیر کے مسئلے کو بھارت اور پاکستان کے درمیان ایک تنازع کے طور پر اپنے ریکارڈ میں رکھتی ہے۔ترجمان نے کہا کہ امریکہ خود ماضی میں جموںوکشمیر کو ایک متنازع خطہ قرار دیتا رہا ہے اور واشنگٹن تنازعہ کشمیر پر بار ہا ثالتی کی پیشکش کرتا رہا ہے۔ ایسے میں امریکی سفیر کی جانب سے سری نگر میں ایک فریق کے موقف کی تائید نے کئی سوالات پیدا کر دیے ہیں۔انہوں نے کہا کہ کشمیر کسی ملک کا اندرونی معاملہ نہیں بلکہ ایک تسلیم شدہ بین الاقوامی تنازع ہے، جسکے بنیادی فریق کشمیری عوام ہیں۔
ترجمان نے امریکہ اور دیگر عالمی طاقتوں سے مطالبہ کیا کہ وہ مقبوضہ جموں و کشمیر میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیاں بند کرنے ، سیاسی قیدیوں کو رہا کرنے اور کشمیری عوام کو ان کے بنیادی حقِ خودارادیت دینے کے لیے بھارت پر دبائو ڈالیں۔ استعمال کا موقع فراہم کرے۔






