مضامین

پروپیگنڈے سے شکست کی پردہ پوشی تک: بھارتی بیانیے کا پوسٹ مارٹم

محمد شہباز

مودی کی حالت اس بانجھ عورت جیسی ہوچکی ہے جو کتی کے بچے گود لیتی ہے تاکہ بچوں کے نہ ہونے کی حسرت پوری ہو سکے۔ گزشتہ بارہ برسوں سے بی جے پی اور مودی اقتدار کے راج سنگھاسن پر براجمان ہیں۔ ان بارہ برسوں میں ہر گزرتا دن اس بات کی گواہی دیتا ہے کہ گجرات کے قاتل نے بھارتی مسلمانوں کو دیوار سے لگانے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی۔ کبھی بابری مسجد کی جگہ رام مندر کی تعمیر کیلئے اپنی سب سے بڑی عدلیہ کا کندھا استعمال کرکے پوری دنیا میں بھارت کی رسوائی کا سامان کیا۔ جب اسے بھی پیٹ نہ بھرا تو شہریت ترمیمی بل کے نام پر مسلمانوں کو غیر ملکی قرار دینے میں کوئی شرم محسوس نہیں کی۔ پھر تین طلاق کے نازک معاملے میں بھی مداخلت ضروری سمجھی گئی۔ اس کے بعد وقف املاک کے قانون میں بھی ترمیم کرکے بورڈ میں ہندو ممبران کی شمولیت کیلئے راہ ہموار کی گئی۔ مسلمانوں کی املاک ، مساجد، مدارس حتی کہ قبرستان تک بلڈوزر سے ملیا میٹ کرنے میں کوئی عار محسوس نہیں کی جاتی ہے۔

مقبوضہ جموں وکشمیر کی خصوصی آئینی حیثیت 05 اگست2019ء میں منسوخ کرکے اہل کشمیر کی سانسوں پر بھی پہرے بٹھائے گئے۔ البتہ مودی اور اس کے قبیل کے ہاتھ رسوائی کے سوا کچھ نہ آیا۔ پھر اپریل 2025 میں مقبوضہ وادی کشمیر کے معروف سیاحتی مقام پہلگام میں ایک فالس فلیگ آپریشن میں اپنے ہی 26 سیاحوں کا قتل کرکے الزام پاکستان پر عائد کیا گیا۔ 06اور 07 مئی کی درمیانی شب بھارت نے پاکستان اور آزاد کشمیر میں مساجد، مدارس اور رہائشی مکانات کو نشانہ بنایا۔ پاکستان نے پہلی رات ہی سات بھارتی جنگی طیارے بشمول چار فرانسیسی ساختہ رافیل مار گرائے۔ 09 اور 10 مئی کی رات بھارت نے پاکستان کی چار ائیر بیسز پر حملہ کیا ، اس کے جواب میں پاکستان نے جو کچھ کیا ، اس پر پوری دنیا کا اتفاق رائے ہے کہ مئی 2025 میں بھارت پاکستان کے ہاتھوں چاروں شانے چت ہوچکا ہے۔

بھارت نے پاکستان پر جارحیت کا نام آپریشن سندور رکھا تو پاکستان نے آپریشن بنیان مرصوص معرکہ حق میں بھارت کیساتھ جو کچھ کیا، اسے آنے والی نسلیں بھی یاد کریں گی۔ مودی جو پوری دنیا میں وشوا گروہ بننے کا ڈھونگ رچاتا تھا ، کی حالت دیکھنے کے لائق ہے، خاص کر ڈونلڈ ٹرمپ نے مودی کی مٹی پلید کی ہے۔مودی ابھی اس صورتحال سے نکل نہیں پارہے تھے کہ بھارت کے لاکھوں طلبا نے کاکروچ جنتا پارٹی کے زیر اہتمام دہلی کے جنتر منتر پر مسلسل 36 روز تک احتجاجی دھرنا جاری رکھ کر بھارتی وزیر تعلیم دھرمیندر پردھان کو استعفی دینے پر مجبور کر کے مودی کو گھٹنوں کے بل لاکھڑا کیا۔ اب مودی کے پاس سوائے ڈرامہ بازی کے کچھ نہیں بچا ہے۔ ان تمام رسوائیوں کا ایک حل ڈھونڈا گیا ہے اور وہ ہے آپریشن سندور پر ڈاکومینٹری۔ دوسرا امیت شاہ کی جانب سے یہ دعوٰی کہ بھارت کے یوم آزادی کے موقع پر بھارت کی چودہ ریاستوں میں آپریشنز کے دوران پاکستان کے حمایت یافتہ دو سو سے زائد افراد گرفتار کیے گئے۔ اس سے قبل مودی نے لال قلعہ میں یوم آزادی کی تقریب سے اپنی تقریر میں طلبہ کو مخاطب کرتے ہوئے دماغی نکسل جیسے القاب سے پکارا ہے۔مکمل طور پر سٹیا گیا مودی اب اپنے انجام کی جانب بڑی تیزی سے بڑھ رہا ہے۔

بھارت میں اقتدار کی سیاست ایک ایسے مرحلے میں داخل ہو چکی ہے جہاں داخلی مسائل، سیاسی دباؤ اور سیکیورٹی چیلنجز کا جواب اکثر شفاف تحقیقات، پارلیمانی احتساب اور ٹھوس شواہد کے بجائے پاکستان پر الزام تراشی اور میڈیا مہمات کی صورت میں سامنے آتا ہے۔ حالیہ دنوں میں بھارتی وزیر داخلہ امیت شاہ کی جانب سے بھارت میں ہونے والی گرفتاریوں کو پاکستان سے جوڑنے کے بھونڈے دعوے اور دوسری طرف ’’آپریشن سندور‘‘ پر بنائی جانے والی نئی دستاویزی فلم بڑے منصوبے کی دو مختلف کڑیاں دکھائی دیتی ہیں۔ پاکستان نے ان الزامات کو یکسر مسترد کرتے ہوئے انہیں سیاسی مفادات کے حصول، حقائق مسخ اور پاکستان کو بدنام کرنے کی مہم قرار دیا ہے، جبکہ پاک افواج کے شعبہ تعلقات عامہ آئی ایس پی آر نے بھارتی ڈاکومینٹری کو جنگی حقائق کو ڈرامائی انداز میں پیش کرنے اور تاریخ کو اپنی مرضی سے دوبارہ لکھنے کی کوشش قرار دیا ہے۔

اصل سوال یہ ہے کہ آخر بھارت کو بار بار پاکستان کو اپنے داخلی مسائل کا مرکزی کردار بنانے اور جنگی واقعات کو فلمی داستان میں تبدیل کرنے کی ضرورت کیوں کر پیش آتی ہے؟ جواب شاید اسی تضاد میں پوشیدہ ہے جس نے مودی حکومت کے سیاسی بیانیے کے پرخچےاڑا دیئے ہیں۔ جب زمینی حقائق مطلوبہ سیاسی تصویر سے مطابقت نہ رکھیں تو بیانیہ تبدیل کر دیا جاتا ہے۔بنیادی اصول بہت سادہ ہے۔ کسی بھی سنگین الزام کو محض سیاسی بیان نہیں بلکہ قابلِ تصدیق شواہد، شفاف عدالتی کارروائی اور آزادانہ تحقیقات کے ذریعے ثابت کیا جانا چاہیے۔ گرفتاری بذاتِ خود جرم کا ثبوت نہیں ہوتی، اور کسی فرد یا گروہ کو پاکستان سے جوڑ دینا اس وقت تک محض دعویٰ رہتا ہے جب تک اس کے قابلِ اعتماد شواہد سامنے نہ آئیں۔

یہی وہ طرز عمل ہے جو بھارتی بیانیے پر سوال اٹھاتا ہے۔ اگر واقعی اتنا بڑا نیٹ ورک بے نقاب ہوا ہے تو بھارت کو عالمی برادری کے سامنے ٹھوس ثبوت، عدالتی پیشرفت اور قابلِ تصدیق تفصیلات رکھنے میں کیا رکاوٹ ہے؟ سوال اٹھانا پاکستان کی حمایت یا بھارت کی مخالفت نہیں، یہ جدید ریاستی نظام میں احتساب کا بنیادی تقاضا ہے۔پاکستانی وزارت خارجہ نے اسی تناظر میں بھارت کے الزامات کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ نئی دہلی اپنے داخلی سکیورٹی چیلنجز سے توجہ ہٹانے اور مذموم سیاسی مفادات کیلئے پاکستان کو مورد الزام ٹھہرا رہا ہے۔ پاکستان ماضی میں بھارت سے متعلق اپنے دعووں کے حوالے سے شواہد عالمی برادری کے سامنے رکھ چکا ہے اور بھارتی دہشت گرد کلبھوشن یادیو کے معاملے کو اپنی دلیل کا حصہ بنایا ہے۔

مودی حکومت کے سیاسی ماڈل میں ’’قومی سلامتی‘‘ محض خارجہ پالیسی کا موضوع نہیں رہی بلکہ داخلی سیاسی بیانیے کا بھی ایک طاقتور ذریعہ بن چکی ہے۔ پاکستان کا نام اس بیانیے میں ایک مستقل حوالہ بن چکا ہے۔ بھارت کا سیاسی فائدہ واضح ہے: بے روزگاری، معاشی مشکلات، سماجی کشیدگی، اقلیتوں کے تحفظ، داخلی اختلافِ رائے اور مودی حکومت پر اٹھنے والے سوالات کے درمیان قومی سلامتی کا نعرہ عوامی توجہ کو بیرونی دشمن کی طرف منتقل کر سکتا ہے۔یہاں بی جے پی کی سیاست کا سب سے بڑا تضاد سامنے آتا ہے۔ ایک طرف دنیا کی ’’سب سے بڑی جمہوریت‘‘ کا دعویٰ، دوسری طرف اختلافِ رائے کو قومی سلامتی کے زاویے سے دیکھنے کا بڑھتا ہوا رجحان۔ بھارت کیلئے سب سے بڑا امتحان یہی ہے کہ وہ پاکستان پر الزام لگانے سے پہلے اپنے داخلی اداروں کی کارکردگی، تحقیقات کے معیار اور عدالتی عمل کو عالمی جانچ کے سامنے رکھے۔ کیونکہ ریاستی طاقت کا اصل ثبوت مخالف ملک پر الزام لگانا نہیں بلکہ اپنے شہریوں کو قانون، انصاف اور جواب دہی کا یقین دلانا ہے۔

دوسرا اہم معاملہ ’’آپریشن سندور‘‘ پر نئی بھارتی دستاویزی فلم ہے، جو 15 اگست 2026 کو نشر ہوئی اور جس میں 2025 کے بھارت پاکستان عسکری تصادم کو بھارتی نقطۂ نظر سے پیش کیا گیا۔ فلم میں نریندر مودی، بھارتی قومی سلامتی مشیر اجیت ڈوول اور دیگر افراد کے انٹرویوز اور واقعات کی تفصیلات شامل ہیں۔دستاویزی فلم بنانا کسی بھی ریاست کا حق ہے، لیکن تاریخ اور پروپیگنڈے میں فرق ہوتا ہے۔ جنگی تاریخ صرف جذباتی موسیقی، ڈرامائی مکالموں، سیاسی تقاریر اور منتخب مناظر سے نہیں لکھی جا سکتی۔ جنگی تاریخ کیلئے آپریشنل ریکارڈ، آزاد ذرائع، سفارتی رابطے، سیٹلائٹ تصاویر، تباہ شدہ آلات، پائلٹوں اور فوجی حکام کے بیانات اور واقعات کی ترتیب اہم ہوتی ہے۔اسی لیے پاکستان افواج کے شعبہ تعلقات عامہ آئی ایس پی آر نے بھارتی ڈاکومینٹری کے اسی پہلو کو نشانہ بناتے ہوئے اس کے بیانیے کو ’’انتہائی ڈرامائی‘‘ اور حقائق کے منافی قرار دیا ہے۔

بھارتی ڈاکومینٹری کا ایک مرکزی دعویٰ ’’100 فیصد مشن کامیابی‘‘ بھی ہے۔ لیکن جنگ میں کامیابی کا فیصلہ محض حکومتی دعوے سے نہیں ہوتا۔ عسکری نتائج کو دونوں جانب کے نقصانات، اہداف کے حصول، فضائی برتری، زمینی اثرات، سفارتی نتائج اور جنگ کے اختتام پر پیدا ہونے والی صورتِحال سے جانچا جاتا ہے۔ پاکستان نے بھارتی طیارے مار گرائے جانے اور بھارتی فوجی اہداف کو نشانہ بنانے کا دعویٰ کیا،جس کی پوری دنیا تصدیق کرچکی ہے۔
پنجاب سے تعلق رکھنے والے ممبر پارلیمنٹ امریندر سنگھ نے پاک فضائیہ کے ہاتھوں بھارتی رافیل طیارہ گرائے جانے کے شواہد بھارتی لوک سبھا اجلاس میں پیش کیے تھے۔اپوزیشن جماعت کانگریس سے تعلق رکھنے والے امریندر سنگھ نے گزشتہ برس بھارتی لوک سبھا اجلاس میں اپنی تقریر میں کہا کہ ان کا تعلق پنجاب سے ہے، پنجاب میں بھٹنڈہ کے قریب بھسیانہ ائیر فورس اسٹیشن کے قریب رافیل طیارے کا ملبہ گرا اور انہوں نے خود اس مقام پر جاکر دیکھا، وہاں ایک طیارے کی دم آکر گری تھی جس پر BS-001 درج تھا جو کہ رافیل طیارہ تھا۔انہوں نے تباہ شدہ رافیل طیارے کے ملبے کی تصاویر بھی دکھائی تھیں ۔امریندر سنگھ کا کہنا تھا یہ طیارہ گرنے سے ایک شخص ہلاک اور 9 افراد زخمی بھی ہوئے۔

فرانسیسی حکام کی جانب سے بھی بھارتی فضائیہ کا رافیل طیارہ گرنے کی تصدیق کی گئی جبکہ امریکی صدر ٹرمپ بھی اب گیارہ بھارتی طیارے گرنے کی تصدیق کرچکے ہیں۔ امرتسر سے ہی تعلق رکھنے والے بھارتی ممبر پارلیمنٹ گرجیت سنگھ اوجلا نے بھارتی فضائیہ پر کڑی تنقید کرتے ہوئے کہا تھا کہ’’ اگر پاکستان نے آپ کا ایک طیارہ بھی نہیں گرایا تو میں مودی اور وزیر دفاع راجناتھ سنگھ سے مطالبہ کرتا ہوں کہ آپ 35 رافیل طیاروں کی پریڈ کرائیں اور دنیا کو دکھا دیں کہ ہمارے پاس سارے جہازصحیح سلامت موجود ہیں‘‘۔بھارتی ڈاکومینٹری پر پاکستان کا اعتراض یہ ہے کہ فلمی مناظر جنگ کے حقیقی نتائج تبدیل نہیں کر سکتے ۔حقیقت اور سنیما میں چلنے والی فلم میں فرق ہوتا ہے، جس سے بھارتی حکومت مسلسل انکاری ہے۔

اگر ایک ریاست جنگ کے پیچیدہ واقعات کو صرف ایک ہیرو، ایک دشمن اور ایک مکمل کامیابی کی کہانی میں تبدیل کر دے تو یہ عسکری تاریخ سے زیادہ سیاسی بیانیہ بن جاتا ہے۔ عوام کو یہ حق حاصل ہے کہ وہ جانیں کہ کیا ہوا، کیسے ہوا، کتنے نقصانات ہوئے، کون سے اہداف حاصل ہوئے اور جنگ کیوں رکی۔بھارت اگر واقعی اپنے دعوے پر پراعتماد ہے تو اسے آزاد صحافیوں، بین الاقوامی مبصرین اور ماہرین کو دستیاب شواہد کا جائزہ لینے کا موقع فراہم کرنا چاہیے۔ تاکہ بھارتی عوام بھی حقائق سے باخبر ہوسکے۔

مودی اور امیت شاہ کی قیادت میں بی جے پی نے قومی سلامتی، قوم پرستی اور پاکستان مخالف بیانیے کو اپنی سیاست کا ایک نمایاں حصہ بنایا ہے۔ لیکن ہر سیاسی بیانیہ ایک مقام پر آ کر زمین بوس ہو جاتا ہے۔پاکستان پر بے جا الزام تراشی بھارت کے اندرونی مسائل کا حل نہیں ہیں ۔ کسی مسلمان یا اقلیتی شہری کی گرفتاری سے پہلے اگر اسے پاکستان سے جوڑ دیا جائے تو اس سے انصاف کے تقاضے پورے نہیں ہوتے اور کسی جنگ پر فلم بنا دینے سے جنگ کے اصل نتائج تبدیل نہیں ہوتے۔بھارت کو یہ فیصلہ کرنا ہوگا کہ وہ ایک ایسی جمہوریت بننا چاہتا ہے جہاں ریاستی دعوے شواہد سے ثابت ہوں، یا ایسی سیاسی ریاست جہاں حکومت کا بیانیہ ہی حقیقت کا متبادل سمجھ لیا جائے۔

یہ سوال صرف پاکستان نہیں اٹھا رہا۔ بھارتی معاشرے کے اندر بھی مودی حکومت کے طرزِ حکمرانی، آزادیٔ اظہار رائے، اقلیتوں کے حقوق اور سیاسی اداروں کے کردار پر بحث جاری ہے۔ جب حکومت پر سوال اٹھانے والے کو دشمن کے بیانیے سے جوڑ دیا جائے تو جمہوریت مضبوط نہیں ہوتی؛ اس کے ادارے کمزور ہوتے ہیں۔کیونکہ آج کی دنیا میں اطلاعات کی جنگ صرف شور مچانے سے نہیں جیتی جاتی؛ credibility یعنی ساکھ سے جیتی جاتی ہے۔

بھارتی وزیر داخلہ کے حالیہ الزامات اور ’’آپریشن سندور‘‘ کی نئی ڈاکومینٹری بظاہر دو الگ واقعات ہیں، مگر ان کے پیچھے ایک ہی سوال کار فرما ہے: کیا ریاستی بیانیہ شواہد کا تابع ہوگا یا شواہد کو ریاستی بیانیے کا تابع بنایا جائے گا؟ بھارت کے معروف دفاعی تجزیہ کار پراوین ساہنی نے اپنے ہی حکمرانوں پر طنز کرتے ہوئے کہا ہے کہ جو جنگ کو سمجھتے ہیں انہیں معلوم ہے کہ جنگ پر بننے والی فلمیں غیر حقیقی، خامیوں سے بھرپور اور زیادہ تر یک طرفہ ہوتی ہیں۔ پراوین ساہنی نے کہا کہ یہ قوم پرستی میں شدت لانے اور بھارتی ملٹری کو پاکستانی ملٹری سے بہتر دکھانے کیلئے بنائی جاتی ہیں۔ ان کا ایک مقصد بھارتی ملٹری کو احتساب سے بالاتر دکھانا بھی ہے، مسئلہ یہ ہے کہ زیادہ تر بھارتیوں کو تخیلاتی دنیا میں رکھا گیا ہے، جنہیں اب دماغی نکسلائی قرار دیا جارہا ہے۔بھارتی تجزیہ کار نے یہ بھی کہا کہ انہیں اب نیند سے بیدار ہو جانا چاہیے، وقت تیزی سے بدل رہا ہے اور 2029 سے پہلے حالات ہمیشہ کیلئے بدل جائیں گے۔

آخر پر صرف یہی اصول کار فرما ہوتا ہے کہ جنگ کے دھوئیں چھٹ جاتے ہیں، سیاسی نعرے خاموش ہو جاتے ہیں، فلمیں پرانی ہو جاتی ہیں، مگر شواہد باقی رہتے ہیں۔ آخرکار تاریخ وہی تسلیم کرتی ہے جسے ثبوت ثابت کریں۔نہ کہ وہ جو کیمروں، نعروں اور سیاسی تقریروں کے ذریعے عوام کے ذہنوں میں بٹھانے کی کوشش کی جائے۔ آپریشن سندور پہلے بھی ناکام کوشش تھی، اب بھی سیاسی ناکامی ہے اور مستقبل میں بھی مودی کی شکست کا مقدر ہے۔

Channel | Group  | KMS on
Subscribe Telegram Join us on Telegram| Group Join us on Telegram
| Apple 

متعلقہ مواد

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button