مقبوضہ کشمیر :ہم جین زی ہیں، پابندیاں برداشت نہیں کریں گے: بھارتی سیاح کا فوج سے احتجاج
سڑک بند ہونے پر بھارتی فوج سے تلخ کلامی، بھارتی سیاح خاتون کی ویڈیو وائرل
سرینگر: غیر قانونی طور پر بھارت کے زیر قبضہ جموں و کشمیر میں ایک خاتون بھارتی سیاح کی ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہے جس میں وہ لداخ کے ضلع کارگل کے علاقے دراس میں سڑک بند کیے جانے اور گھنٹوں تک روکے جانے پر بھارتی فوجی اہلکاروں سے شدید احتجاج کرتی دکھائی دے رہی ہے۔
کشمیر میڈیا سروس کے مطابق خاتون سیاح کو25جولائی کو دراس میں منی مرگ چیک پوسٹ کے قریب منی مرگ، زوجیلا اور سونمرگ شاہراہ پر سفری پابندیوں کے باعث روکا گیا تھا۔وائرل ویڈیو میں خاتون سڑک کے قریب کھڑی بھارتی فوجی اہلکاروں سے سیاحوں کو روکنے کی وجہ پر سخت سوالات کرتی نظر آتی ہے۔خاتون نے نام نہاد سکیورٹی پابندیوں پر اعتراض کرتے ہوئے کہا کہ بھارتی قابض فورسز اب سیاحوں کو بھی اسی طرح بند کر رہی ہیں جس طرح وہ کشمیریوں کو بند کرتی ہیں۔انہوں نے غصے کا اظہار کرتے ہوئے کہاکہ ہم جین زی ہیں، ہم یہ بکواس برداشت نہیں کریں گے۔ خاتون نے کہا کہ وہ اس علاقے میں سفر کے لیے رقم ادا کرکے آئی ہیں اور انہیں ایسی پابندیوں کا سامنا کرنے کے لیے نہیں بھیجا گیا۔انہوں نے مزید کہا کہ بھارتی فورسز کشمیریوں کے ساتھ ایسا سلوک کرتی رہی ہیں اور اب سیاحوں کے ساتھ بھی اسی طرح کا رویہ اختیار کیا جا رہا ہے۔ویڈیو میں دیگر سیاحوں کو بھی سڑک پر رکاوٹ کے قریب جمع دیکھا جا سکتا ہے، جبکہ خاتون مسلسل بھارتی فورسز سے سوالات کرتی اور سڑک کھولنے کا مطالبہ کرتی دکھائی دیتی ہے۔واقعے نے مقبوضہ جموں و کشمیر میں بھارتی قابض فورسز کی جانب سے عائد سخت سکیورٹی پابندیوں اور سفری قدغنوں کی جانب توجہ مبذول کرائی ہے۔ کشمیری عوام کئی دہائیوں سے ایسی پابندیوں اور نقل و حرکت پر قدغن کا سامنا کر رہے ہیں۔





