امریکی سفیر نے کشمیرکی متنازعہ حیثیت ، کشمیریوں کی خواہشات کو نظر انداز کیا، کشمیر گلوبل کونسل

ٹورنٹو: کینیڈا کے شہر ٹورنٹو میں قائم” کشمیر گلوبل کونسل ” نے بھارت میں امریکی سفیر سرجیو گور کی طرف سے جموں و کشمیر کو بھارت کا اہم حصہ قرار دینے کے بیان کی شدید مذمت کی ہے۔کشمیر میڈیا سروس کے مطابق کونسل نے ٹورنٹو میں جاری ایک بیان میں بیان کو انتہائی غیر ذمہ دارانہ اور جموں و کشمیر کی بین الاقوامی سطح پر متنازعہ حیثیت کے متصادم قرار دیا۔ بیان میںکہا گیا کہ امریکی سفیر نے کشمیر کی متنازعہ حیثیت اور کشمیریوں کے حقوق اور خواہشات کو نظرانداز کیا ہے۔ کونسل نے کہا کہ جموں و کشمیر بھارت کا اندرونی معاملہ نہیں ہے بلکہ عالمی سطح پر تسلیم شدہ متنازعہ خطہ ہے اور اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل نے تنازعہ کشمیر کے حل اور کشمیریوں کے حق خود ارادیت کے حق میں کوئی قرار دادیں پاس کررکھی ہیں۔
کشمیر گلوبل کونسل نے اس بات پر زور دیا کہ کوئی یکطرفہ آئینی اقدام، انتظامی تنظیم نو، سفارتی دورہ یا کسی غیر ملکی عہدیدار کا بیان جموں و کشمیر کے متنازعہ کردار کو تبدیل نہیں کر سکتا یا اس کے عوام کی خواہشات کا متبادل نہیں بن سکتا۔کونسل نے کہا کہ سفیر گور کے ریمارکس خاصے پریشان کن ہیں کیونکہ وہ ایک سینئر امریکی نمائندے ہیں، جن کا ملک اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کا مستقل رکن ہے اور تنازعہ کشمیر کے مذاکرات اور پرامن حل کی حمایت کرتا رہا ہے ۔
بیان میں امریکہ اور عالمی برادری پر زور دیا گیا کہ وہ ایسے بیانات یا اقدامات سے گریز کریں جو خطے کی حتمی حیثیت کو متاثر کرتے ہوں ۔کونسل نے ایک پرامن، منصفانہ، جمہوری اور جامع عمل کی اپیل کی جس کا مقصد تنازعات کاپائیدار تصفیہ ہو۔






