مقبوضہ جموں و کشمیر

مقبوضہ کشمیر:ریٹائرڈ بھارتی پولیس افسر کی بی جے پی میں شمولیت کااعلان

سرکاری اداروں کی غیر جانبداری پر سوالیہ نشان

سرینگر :غیرقانونی طورپر بھارت کے زیر قبضہ جموں وکشمیر کے گرمائی دارلحکومت سرینگر میں ریٹائرڈ ڈپٹی سپرنٹنڈنٹ آف پولیس، درا سنگھ اور ان کے حامیوں کی بی جے پی میں شمولیت نے مقبوضہ علاقےمیں سرکاری اداروں میں ہندوتوا سیاست کے بڑھتے ہوئے اثر و رسوخ پر سوالات اٹھا دیے ہیں۔
کشمیر میڈیاسروس کے مطابق درا سنگھ نے بی جے پی کی مقبوضہ کشمیر شاخ کےصدر سَت شرما، اپوزیشن لیڈر سنیل شرما، لوک سبھا کے رکن جگل کشور شرما اور دیگر رہنماؤں کی موجودگی میں پارٹی میں شمولیت اختیار کی۔ بی جے پی نے اسے اپنے نظریے اور قیادت پر بڑھتے ہوئے اعتماد کا اظہار قرار دیا۔یہ پیش رفت اس لیے اہم ہے کہ ایک سابق سینئر پولیس افسر کی ریٹائرمنٹ کے بعد حکمران پارٹی میں شمولیت نے فوجی اسٹیبلشمنٹ اور بی جے پی-آر ایس ایس کے درمیان نظریاتی ہم آہنگی پر تشویش کو ایک بار پھرتازہ کر دیا ہے۔ناقدین طویل عرصے سے سوال اٹھاتے رہے ہیں کہ کیا ہندوتوا نظریات سے ہمدردی رکھنے والے سرکاری اہلکاروں کی ریاستی اداروں میں حوصلہ افزائی دیا جا رہی ہے اور پھرانہیں ریٹائرمنٹ کے بعد فعال سیاست میں لایا جا رہا ہے۔مبصرین کے مطابق، اس طرح کی شمولیتیں متنازعہ علاقے میں قانون نافذ کرنے والے اداروں کی سیاسی غیرجانبداری پر عوام کے اعتماد میں مزید کمی کاباعث بن سکتاہے۔ریٹائرڈ سرکاری افسر کی بی جے پی میں شمولیت ایسے وقت ہوئی ہے جب کشمیریوں کے خلاف کریک ڈاؤن، گرفتاریوں، چھاپوں اور نگرانی کے استعمال پربڑے پیمانے پر تشویش ظاہر کی جارہی ہے۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ ریاستی ادارے تیزی سے نئی دہلی کے ہندوتواسیاسی ایجنڈے کو آگے بڑھانے کے لیے استعمال ہو رہے ہیں۔

Channel | Group  | KMS on
Subscribe Telegram Join us on Telegram| Group Join us on Telegram
| Apple 

متعلقہ مواد

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button