بیوروکریسی کی بدسلوکی کے خلاف بارہمولہ کے وکلاءکی سوپور احتجاج کی حمایت
سرینگر: غیرقانونی طورپر بھارت کے زیر قبضہ جموں وکشمیرمیں بھارت کی مسلط کردہ بیوروکریسی کے توہین آمیز اور آمرانہ رویے کے خلاف وکلاءبرادری میں دن بدن بے چینی بڑھ رہی ہے۔
کشمیر میڈیا سروس کے مطابق بار ایسوسی ایشن بارہمولہ نے بار ایسوسی ایشن سوپور کے ساتھ اظہارِ یکجہتی کرتے ہوئے مقامی وکلاءکے ساتھ سوپور کے تحصیلدار کے ناروا اور توہین آمیز سلوک کے خلاف جاری احتجاج میں شرکت کی ہے۔بار ایسوسی ایشن بارہمولہ نے سوپور کی وکلاءبرادری کی حمایت کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ وکلا ءکے وقار، احترام اور حقوق کا تحفظ ضروری ہے، جبکہ قابض حکام پر لازم ہے کہ وہ وکلا ءکے ساتھ معاملات کرتے ہوئے پیشہ ورانہ طرزِ عمل برقرار رکھیں۔یہ پیش رفت سوپور بار کی جانب سے جاری احتجاج کے دوران سامنے آئی ہے جس میں توہین آمیز سلوک پر تحصیلدار کے خلاف مناسب کارروائی کا مطالبہ کیا جا رہا ہے۔سوپور بار کو ملنے والی حمایت وکلاءبرادری میں بیوروکریسی کے طرزِ عمل اور ادارہ جاتی احترام کے مسلمہ اصولوں کو نظر انداز کیے جانے پر بڑھتی تشویش کی عکاسی کرتی ہے۔ بارہمولہ کے وکلا ءکا احتجاج میں شامل ہونا ضلع بھر کے وکلا ءکے درمیان یکجہتی کا بھی مظہر ہے۔وکلا ءنے کہا کہ قانونی پیشے کا احترام، عدالتی اداروں کی آزادی اور ان کے وقار کا تحفظ قانون کی حکمرانی کے لیے ناگزیر ہے۔






