بھارت :مالی بے ضابطگیوں پرلیفٹیننٹ کرنل برطرف، ایک سال قیدِ بامشقت کی سزا

جموں : بھارتی فوج کی میڈیکل کور کے ایک لیفٹننٹ کرنل کوفوجی عدالت نے اسپتال کے لیے طبی آلات کی خریداری میں مالی بے ضابطگیوں اور انتظامی خلاف ورزیوں پر فوج سے برطرف کرتے ہوئے ایک سال قیدِ بامشقت کی سزا سنائی ہے۔
کشمیر میڈیا سروس کے مطابق لیفٹیننٹ کرنل ڈی ماجی پر جھوٹے بیانات دینے، دھوکہ دہی اور فوجی نظم و ضبط کے منافی اقدامات کرنے کے 14 الزامات کے تحت مقدمہ چلایا گیا۔ عدالت نے انہیں پانچ الزامات میں قصوروار قرار دیا۔ مقدمے کی سماعت گزشتہ روز جموں کے قریب نگروٹہ میں مکمل ہوئی۔ عدالت کے فیصلے اور سزا کی اعلیٰ حکام یعنی ناردرن کمانڈ کے جنرل آفیسر کمانڈنگ اِن چیف سے توثیق ہونا باقی ہے۔مالی بے ضابطگیوں کا تعلق 2018 اور 2019 سے ہے جب مذکورہ افسر 166 ملٹری اسپتال میں تعینات تھا۔ وہ طبی سامان کی خریداری کے لیے انڈینٹنگ افسر کے طور پر خدمات انجام دے رہاتھا اور تکنیکی و مالیاتی بورڈ کا سربراہ بھی تھا۔لیفٹیننٹ کرنل نے الزامات سے انکار کرتے ہوئے مو¿قف اختیار کیا تھا کہ ان کے اقدامات نیک نیتی پر مبنی تھے اور مقدمے سے متعلق دستاویزات جعلی ہیں اور ان پر ان کے دستخط موجود نہیں ہیں۔ اس سے قبل انہوں نے آرمڈ فورسز ٹربیونل (اے ایف ٹی) سے بھی رجوع کیا تھا۔ اگرچہ جسٹس راجندر مینن کی سربراہی میں اے ایف ٹی کے پرنسپل بینچ نے ان کے خلاف تادیبی کارروائی روکنے سے انکار کر دیا تھا، تاہم ٹربیونل نے ہدایت دی تھی کہ اس معاملے میں مزید احکامات تک کوئی حتمی فیصلہ نہ کیا جائے۔جنرل آفیسر کمانڈنگ میجر جنرل ایچ ایس برار کے احکامات پر قائم کی گئی فوجی عدالت کی سربراہیکرنل آر پی یادو نے کی جو ایک آرڈیننس یونٹ کے کمانڈنگ آفیسر ہیں۔ بریگیڈیئر (ریٹائرڈ) ڈی کے اہلووالیہ نے استغاثہ کے وکیل کے طور پر مقدمہ پیش کیا۔چارج شیٹ کے مطابق افسر نے 2018 اور 2019 کے دوران تکنیکی و مالیاتی بورڈز کے سربراہ کی حیثیت سے متعدد مواقع پر تقریباً 3 کروڑ روپے مالیت کے مختلف طبی سامان کی فوری ضرورت کو غلط طور پر ظاہر کیا۔ ان پر ڈیفنس پروکیورمنٹ مینوئل 2009 کی دفعات کی خلاف ورزی اور بعض وینڈرز کو ناجائز طور پر منتخب یا مسترد کرنے کا بھی الزام تھا جس کے نتیجے میں بعض فریقوں کو غیر قانونی مالی فائدہ پہنچا۔






