بھارت

بھارت :ہڑتال کے باعث منی پور میں معمولاتِ زندگی درہم برہم

امپھال یکم ستمبر (کے ایم ایس) بھارت کی شورش زدہ ریاست منی پور میں قومی رجسٹر برائے شہری (این آر سی) کے نفاذکے مطالبے پر ہڑتال کے باعث معمولاتِ زندگی مفلوج ہو کر رہ گئے۔
کشمیر میڈیا سروس کے مطابق منی پور کے پانچ اضلاع میں معمولاتِ زندگی شدید متاثر ہوئے جہاں مردم شماری سے قبل نیشنل رجسٹر آف سٹیزنز (این آر سی) کو نافذ کرنے کے مطالبے کے لئے کیمپین فار جسٹ اینڈ فیئر ڈی لمیٹیشن (جے ایف ڈی) کی جانب سے 24 گھنٹے کی ریاست گیر ہڑتال کی کال دی گئی تھی۔ہڑتال کے باعث منی پور کے پانچوں اضلاع میں بازار، تعلیمی ادارے اور پبلک ٹرانسپورٹ متاثر رہی۔ مظاہرین نے سڑکیں بلاک کرکے گاڑیوں کی آمدورفت روک دی۔ مردم شماری موخر کیے جانے کے باوجود احتجاج جاری رہا جس سے این آر سی کے مطالبے کی اہمیت کا اندازہ ہوتا ہے۔مظاہرین صبح ہی سڑکوں پر نکل آئے اور ہڑتال کے حق میں احتجاج کیا۔ امپھال ایسٹ، امپھال ویسٹ، تھوبل، بشنوپور اور کاکچنگ میں بازار اور کاروباری مراکز بند رہے جبکہ سڑکیں سنسان نظر آئیں۔ تعلیمی ادارے بھی بند رہے اور پبلک ٹرانسپورٹ سڑکوں سے غائب رہی، تاہم چند نجی گاڑیاں چلتی دکھائی دیں۔ ضلع تھوبل کے علاقے یائری پوک میں ہڑتال کے حامیوں نے مبینہ طور پر گاڑیوں کی آمدورفت روکنے کے لیے سڑکوں پر رکاوٹیں کھڑی کردیں۔مظاہرین کا کہنا تھا کہ ان کا مطالبہ ہے کہ مردم شماری سے پہلے این آر سی نافذ کیا جائے کیونکہ ریاست میں مبینہ طور پر غیر قانونی تارکینِ وطن کی موجودگی پر تشویش پائی جاتی ہے۔ ان کا مو¿قف تھا کہ غیر قانونی تارکینِ وطن کے مسئلے کو حل کیے بغیر مردم شماری اور اس کے بعد حلقہ بندی کا عمل مقامی آبادی کے مفادات کا تحفظ نہیں کر سکے گا۔ایک مقامی شخص نے بتایا کہ ریاست کی بی جے پی حکومت کی جانب سے مردم شماری موخر کرنے کا اعلان اس وقت تک کافی نہیں جب تک ِ بھارتی حکومت کی جانب سے اس حوالے سے باضابطہ نوٹیفکیشن جاری نہیں کیا جاتا۔جے ایف ڈی نے واضح کیا ہے کہ مردم شماری سے قبل این آر سی کے نفاذ کا مطالبہ پورا ہونے تک اس کی احتجاجی تحریک جاری رہے گی۔دریں اثنا، منی پور ہائی کورٹ نے بھی ریاست میں مردم شماری کے عمل کو روکنے کی ہدایت جاری کی ہے۔

Channel | Group  | KMS on
Subscribe Telegram Join us on Telegram| Group Join us on Telegram
| Apple 

متعلقہ مواد

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button