بھارت : مغربی بنگال میں بی جے پی حکومت کا آرایس ایس کے ایک ہزار اسکول قائم کرنے کا اعلان
کولکتہ : بی جے پی کے زیرِ اقتدار بھارتی ریاست مغربی بنگال میں وزیر اعلیٰ سویندو ادھیکاری نے ایک سال کے اندر راشٹریہ سوائم سیوک سنگھ (RSS) کی تعلیمی شاخ ودیا بھارتی کے زیرِ انتظام کم از کم 1,000 اسکول قائم کرنے کا اعلان کیا ہے جس سے ہندوتوا نظریے کو باضابطہ طورپر سرکاری سرپرستی مل جائے گی۔
کشمیر میڈیا سروس کے مطابق سویندوادھیکاری نے کولکتہ میں ودیا بھارتی کی 74ویں سالگرہ کے حوالے سے منعقدہ ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ یہ اسکول ریاست کے ہر ضلع، میونسپلٹی اور پنچایت میں قائم کیے جائیں گے۔انہوں نے ودیا بھارتی پر زور دیا کہ وہ مرشد آباد اور جنوبی 24 پرگنہ اضلاع میں مزید اسکول قائم کرے کیونکہ ان اضلاع میںزیادہ ملک دشمن سرگرمیاں انجام دی جارہی ہیں۔آر ایس ایس کی تعلیمی شاخ” ودیا بھارتی اکھل بھارتیہ شکشا سنستھان“ پورے بھارت میں ہزاروں اسکول چلاتی ہے اور اسے طویل عرصے سے تعلیم کے ذریعے ہندوتوا نظریے کو فروغ دینے پر تنقید کا سامنا ہے۔ناقدین تنظیم پر درسی کتب اور تدریسی عمل کے ذریعے فرقہ وارانہ اور مسلم مخالف بیانیے کو فروغ دینے کا الزام عائد کررہے ہیں۔ سابق طلبہ اور اساتذہ نے بھی الزام لگایا ہے کہ ودیا بھارتی کے اسکول مسلم مخالف بیانیے اور آرایس ایس کے نظریات کو فروغ دے رہے ہیں۔سویندوادھیکاری نے خبردار کیا کہ جو اسکول وندے ماترم کا مکمل ورژن گانے سے انکار کریں گے، ان کی مالی معاونت واپس لی جائے گی۔انہوں نے ترنمول کانگریس کی سابقہ حکومت پر تعلیمی اداروں کوآلودہ کرنے کا الزام عائد کیا اور ودیا بھارتی سے کہا کہ وہ قوم پرستانہ تعلیم کو فروغ دینے کی ذمہ داری سنبھالے۔انہوں نے کہا کہ ہماری سوچ یہ ہے کہ تعلیم کی الگ الگ شکلیں نہیں ہونی چاہئیں، مدرسہ تعلیم اور دیگر اقسام کی تعلیم الگ نہیں ہونی چاہئیں۔ تمام تعلیم ایک ہی تعلیمی نظام کا حصہ ہونی چاہیے۔





