لوگ” متحدہ مجلس علماء“کی سماجی اصلاحی مہم میں فعال طور پر شریک ہوں، میر واعظ
سرینگر: بھارت کے غیر قانونی زیر قبضہ جموںوکشمیر میں کل جماعتی حریت کانفرنس کے سینئر رہنما میر واعظ عمر فاروق نے عوام سے اپیل کی کہ وہ متحدہ مجلسِ علماءکی طرف سے حال ہی میں منظور کی گئی سماجی اصلاحی مہم کی حمایت کریں اور اس میں فعال طور پر شریک ہوں۔
کشمیر میڈیا سروس کے مطابق میر واعظ نے آج سرینگر کی تاریخی جامع مسجد میں نما ز جمعہ کے اجتماع سے خطاب کے دوران حالیہ علماءکانفرنس کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ مختلف علاقوں اور مکاتبِ فکر سے تعلق رکھنے والے علماءنے معاشرے کو درپیش اہم مسائل جیسے منشیات، نوجوانوں میں خودکشی اور ذہنی دباﺅ، سوشل میڈیا کا غلط استعمال، خاندانی رشتوں کی کمزوری، ماحولیاتی انحطاط اور معاشرتی بھائی چارہ و ہم آہنگی پر غور و خوض کیا۔
انہوں نے کہا کہ جب تک لوگ خود اس کوشش کا حصہ نہ بنیں، صرف کانفرنسیں اور قراردادیں تبدیلی نہیں لا سکتیں ۔ انہوں نے کہا کہ ان معاملات کو خاندانوں، مساجد، محلوں اور برادریوں کی سطح پر عملی اقدام میں بدلنے کی ضرورت ہے۔
میر واعظ نے قرآنِ کریم کی آیت “بے شک اللہ کسی قوم کی حالت نہیں بدلتا جب تک وہ خود اپنی حالت کو نہ بدلے” کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ حقیقی اصلاح کا آغاز اپنے اندر سے ہونا چاہیے ۔
انہوں نے کہاہمیں اجتماعی طور پر سوچنا، غور کرنا اور عمل کرنا ہوگا۔ علما ، والدین، نوجوانوں، مساجد، مدارس بالخصوص والدین کو اپنا کردار ادا کرنا ہے اورسماجی اصلاح کو ایک مشترکہ ذمہ داری بنانا ہوگا۔میرواعظ نے کہا کہ اس حوالے سے جملہ مساجد، خانقاہوں، امام بارگاہوں اور آستانوں میں مشترکہ سماجی مسائل کو جمعہ کے خطبات میں موضوع بنایا جائے گا تاکہ معاشرے کو درپیش اہم امور پر مسلسل توجہ مبذول کی جا سکے۔ انہوں نے عوام سے اپیل کی کہ وہ ان کوششوں کی حمایت کریں اور ان موضوعات پر اپنے گھروں اور برادریوں میں بھی گفتگو کو آگے بڑھائیں۔
انہوں نے اس بات کا بھی اعادہ کیا کہ منبر ایک امانت ہے اور اسے لوگوں کی رہنمائی، دلوں کو جوڑنے، باہمی احترام کو فروغ دینے اور معاشرے کے حقیقی مسائل کو اجاگر کرنے کے لیے استعمال کیا جانا چاہیے، نہ کہ مسلکی تقسیم کو مزید گہرا کرنے کے لیے۔میرواعظ نے کہا کہ دیرپا تبدیلی اسی وقت ممکن ہے جب لوگ خود اصلاح کے عمل میں شریک ہوں اور اپنے گھروں، محلوں اور برادریوں کی بہتری کی ذمہ داری قبول کریں۔
میرواعظ نے اجتماع کو ایرانی صدر ڈاکٹر مسعود پزشکیان اور وزیر خارجہ عباس عراقچی کے ساتھ اپنی حالیہ ملاقاتوں سے بھی آگاہ کیا، جن کے دوران انہوں نے ایرانی عوام کے ساتھ یکجہتی کا اظہار کیا اور کشمیر و ایران کے گہرے تاریخی، ثقافتی اور دینی تعلقات کا ذکر کیا۔
انہوں نے کہا کہ ایرانی قیادت نے کشمیر کا دورہ کرنے میں دلچسپی ظاہر کی ہے اور انہوں نے انہیں کشمیر آنے کی دعوت دی۔




