مغربی بنگال: امیت شاہ کے دوروں کے دوران مسلم افسران کو سرکاری پروگراموں سے دور رکھا گیا
مسلمان افسروں کو انکے مذہب کی وجہ سے نظر انداز کیا گیا، مہوا موئترا کااقوام متحدہ کے نمائندے کو خط
کولکتہ : ترنمول کانگریس کی رکن پارلیمنٹ مہوا موئترا نے اقوام متحدہ کے اقلیتی امور کے خصوصی نمائندے کو خط لکھا ہے جس میں انہوں نے کہا ہے کہ مغربی بنگال میں سینئر مسلم” آئی اے ایس اورآئی پی ایس “عہدیداروں کو مرکزی وزیر داخلہ امیت شاہ کے ریاست کے دوروں کے دوران ان کے مذہب کی بنیاد پر سرکاری پروگرامو ں سے دور رکھا گیا۔
کشمیر میڈیاسروس کے مطابق موئترا نے چند روز قبل سوشل میڈیا پر بھی ایک پوسٹ کے ذریعے یہ معاملہ اٹھایا تھا ۔ انہوںنے سلی گوڑی علاقے کے پولیس کمشنر وقار رضا، مغربی بنگال پولیس کی اسپیشل ٹاسک فورس کے سربراہ جاوید شمیم اور آئی اے ایس افسر خلیل احمد کے نام لیے تھے ۔ انکی اس پوسٹ کے خلاف بعد ازاں انکے خلاف پولیس میں شکایت درج کرائی گئی تھی جس کے بعد سائبر کرائم پولیس نے انہیں پوچھ گچھ کیلئے طلب کیا تھا۔
مہوا موئترا نے ا ب اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کے ہائی کمشنر دفتر سے وابستہ اقلیتی امور کے خصوصی نمائندے پروفیسر نکولس لیورا کو لکھے گئے خط میں کہا کہ رواں برس جولائی اور اگست میں امیت شاہ کے مغربی بنگال کے دوروںکے دوران تین مواقع پر ان تینوں سینئر مسلم عہدیداروں کو یا تو وہاں سے چلے جانے کے لیے کہاگیا یا سرکاری پروگراموں میں شرکت نہ کرنے کی ہدایت دی گئی۔
انہوںنے کہا کہ ان عہدیداروں کو امیت شاہ سے متعلق پروگراموں سے بالکل الگ رکھا گیا جبکہ دیگر مذاہب سے تعلق رکھنے والے انکے ہم منصبوں کو شرکت کی اجازت دی گئی ۔ انہوںنے کہا کہ یہ سب ان تینوں کے مذہب کی وجہ سے کیا گیا ۔







