”جماعت اسلامی ہند“ کا بھارت میں خواتین کے خلاف بڑھتے ہوئے جنسی جرائم پر اظہار تشویش
نئی دلی:جماعت اسلامی ہند نے بھارت بھر میں خواتین کے خلاف بڑھتے ہوئے جنسی جرائم پر گہری تشویش کااظہار کیا ہے۔کشمیر میڈیا سروس کے مطابق جماعت اسلامی ہند کے نائب امیر پروفیسر سلیم انجینئر نے نئی دلی میں پارٹی کے مرکزی دفتر میں ماہانہ پریس کانفرنس کے دوران کرتے ہوئے تین حالیہ واقعات کا ذکر کیا ، مہاراشٹر میں ایک خاتوں ڈاکٹر کی خود کشی جس نے ایک پولیس افسر پر زیادتی کا الزام لگایا تھا، دلی میں ایک ہسپتال کی ملازمہ جسے ایک جعلی فوجی افسر نے پھنسایا تھا اور ایک ایم بی بی ایس طالبہ جسے نشہ دیکربلیک میل کیا گیا تھا۔ انہوںنے کہا کہ یہ تمام واقعات بھارتی معاشرے میں بڑے پیمانے پر اخلاقی گراوٹ کی نشاندہی کرتے ہیں۔ انہوںنے کہا کہ بھارتی شہری اور دیہی دونوں علاقوںمیں خواتین عدم تحفظ کا شکار ہیں۔
انہوںنے بہا ر اسمبلی انتخابات میں نفرت انگیز مہم ، اشتعال انگیزی اور طاقت کے بیجا استعمال پربھی شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ انتخابات کا موضوع ریاست کی ترقی ، صحت، امن و قانون اور تعلیم ہونا چاہے ، الیکشن کمیشن کو اس ضمن میں اپنی آئینی ذمہ داری پوری کرنی چاہیے۔ کہ پروفیسر سلیم انجینئر نے کہا کہ ووٹ دینا صرف ایک حق نہیں بلکہ ایک ذمہ داری بھی ہے، یہ جمہوریت کی مضبوطی اور منصفانہ معاشرے کے قیام کا ذریعہ ہے۔ انہوںنے کہا کہ شہریوں کو چاہیے کہ وہ سیاسی جماعتوں اور امیدواروںکا انتخا ب انکی کارکردگی ، دیانت داری اور عوام مسائل جیسے غربت ، بے روزگاری ، تعلیم ، صحت اور انصاف کی بنیاد پر کریں نہ کہ جذباتی، تفرقہ انگیز یا فرقہ وارانہ اپیلوں کی بنیاد پر۔ نائب امیر جماعت اسلامی نے بھارتی الیکشن کمیشن سے مطالبہ کیا کہ وہ انتخابات کو آزادانہ اور منصفانہ بنانے کیلئے ضابطہ اخلاق پر سختی سے عملدرآمد کرائے ۔بہار میں اسمبلی انتخابات 6اور 11نومبر کو ہو رہے ہیں۔
پریس کانفرنس سے ایسوسی ایشن آف پروٹیکشن آف سوال رائٹس (اے پی سی آر) کے سیکرٹری ندیم خان نے خطاب میں کہا کہ دلی مسلم کشن فسادات کے سلسلے میں عمر خالد ، شرجیل امام اوردیگر بے گناہ طلبا کو پانچ برس سے زائد عرصے سے قید کیاگیا ہے ۔ا نہوں نے کہا کہ یہ دراصل عدالتی عمل کے ذریعے سزا دینے کے مترادف ہے۔ ندیم خان نے کہا کہ وٹس ایپ چیٹس، احتجاجی تقریروں اور اختلاف رائے کو دہشت گردی قرار دینا آئین کے بنیادی ڈھانچے کیلئے سنگین خطرہ ہے ۔ انہوںنے کہا کہ کالے قانون ”یو اے پی اے“ کے غلط استعمال سے ایک جمہوری احتجاج کو مجرمانہ فعل بنا دیا گیا ہے ۔ا نہوں نے کہاکہ اختلاف رائے کی آزادی جمہوریت کی روح ہے ، اسکا گلا گھونٹنا ہمارے جمہوری ڈھانچے کیلئے تباہ کن ہے۔







