بھارت

خواتین ریزرویشن بل کی ناکامی:نشستوں کی بندربانٹ کا مودی حکومت کا ناپاک منصوبہ زمین بوس

اسلام آباد:بھارت میں بھارتیہ جنتا پارٹی کی حکومت کا پارلیمنٹ کے ایوان زیرین لوک سبھا کی نشستیں 543 سے بڑھا کر 850 کرنے کا منصوبہ بری طرح ناکام ہو گیا۔ اس نے خواتین ریزرویشن بل کی آڑ میں اپنے مذموم منصوبے کو آگے بڑھنا چاہا لیکن اسے پہلی بار ایوان میں ناکامی کا منہ دیکھنا پڑا۔
کشمیر میڈیاسروس کے مطابق خواتین ریزرویشن بل کو ایوان زیرین میں دو تہائی اکثریت نہ مل سکی اوریوں اسکا پارلیمانی انجینئرنگ کا ڈرامہ مکمل طور پر فلاپ ہو گیا۔ مودی حکومت 131 ویں آئینی ترمیم کے ذریعے سیاسی شب خون مارے کی تیاری کررہی تھی لیکن جنوبی ریاستوں کی شدید مخالفت کے باعث اسکا نشستوں کی بندر بانٹ کا ناپاک منصوبہ زمین بوس ہو گیا۔بی جے پی حکومت نے آبادی پر قابو پانے والی جنوبی ریاستوں کو سزا دینے اور شمالی بھارت کی بالا دستی قائم رکھنے کیلئے منصوبہ بندسازش رچائی تھی لیکن اسے ناکامی ہوئی۔خواتین کو حقوق دینے کا ڈرامہ دراصل لوک سبھا میں اپنی عددی طاقت غیر فطری طور پر بڑھانے کی ایک گھنانی کوشش تھی تاہم حزب اختلاف نے اسکی یہ کوشش ناکام بنا دی۔
کانگریس اور حزب اختلاف کی دیگر جماعتوں نے نام نہاد خواتین ریزرویشن بل پر بی جے پی حکومت کو آڑے ہاتھوں لیتے ہوئے کہا کہ اس نے خواتین تحفظات بل کی آڑ میں وفاقی ڈھانچے کو بدلنے کی کوشش کی ہے تاہم پارلیمنٹ میں اس بل کی شکست جمہوریت کی جیت ہے۔انہوں نے کہا کہ خواتین تحفظات قانون 2023میں پہلے ہی منظور ہو چکا ہے لہذا مودی حکومت اپنے سیاسی مقاصد کی تکمیل کیلئے اس حوالے سے نیا بل لانے کے بجائے منظور شدہ قانون پر عملدریقینی بنائے ۔انہوں نے کہا کہ بی جے پی نے خواتین تحفظات بل کو دانستہ طور پر حدبندی سے مرطوط کیا اور اس بل کے پیچھے واحدمقصد مستقل طور پر اقتدارمیں رہناتھا۔تاہم اپورشن نے وفاقی ڈھانچے میں تبدیلی اور جمہوریت کو کمزور کرنے کی اسکی سازش ناکام بنا دی ۔مغربی بنگال کی وزیر اعلیٰ ممتا بنر جی نے بھی ایک بیان میں وزیر اعظم نریندر مودی کو کڑی تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہاہے کہ مذموم سیاسی مقاصد کے تحت لائے گئے دستوری بل کی ناکامی کے بعد اب زعفرانی جماعت کا زول شروع ہو گیا ہے۔

Channel | Group  | KMS on
Subscribe Telegram Join us on Telegram| Group Join us on Telegram
| Apple 

متعلقہ مواد

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button