سلامتی کونسل میں پاکستان کی بھارت کی جانب سے سندھ طاس معاہدے کی یکطرفہ معطلی کی شدید مذمت

اقوامِ متحدہ: پاکستان نے اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل میں مشترکہ قدرتی وسائل کے دانستہ سیاسی استعمال پر سخت تشویش کا اظہار کرتے ہوئے بھارت کی جانب سے سندھ طاس معاہدے کی یکطرفہ معطلی کی شدید مذمت کی ہے جو چھ دہائیوں سے زائد عرصے سے بین الریاستی تعاون کی بنیاد رہا ہے۔
کشمیرمیڈیاسروس کے مطابق اقوامِ متحدہ میںپاکستان کے مستقل مندوب عاصم افتخار احمد نے جنگی تنازعات اور ماحولیاتی تبدیلی سے متعلق سلامتی کے خطرات کے بارے میں سلامتی کونسل کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہاکہ بھارت کی جانب سے ایک ایسے نظام کو منہدم کرنا جس نے پانی کی منصفانہ تقسیم کو یقینی بنایا، لاکھوں لوگوں کو ماحولیاتی خطرات سے مزید دوچار کر دیا ہے۔انہوں نے بھارت کے اس اقدام کو معاہداتی ذمہ داریوں اور بین الاقوامی قانونی اصولوں کی صریح خلاف ورزی قرار دیا۔انہوں نے خبردار کیا کہ ایک ایسے معاہدے کو غیر موثر بنانا جس نے عشروں تک تصادم کے دوران بھی استقامت دکھائی، خطے کے استحکام، ماحولیاتی توازن اور بین الاقوامی معاہدوں پر اعتماد کے لیے سنگین خطرہ ہے۔انہوں نے کہاکہ یہ معاملہ اس کونسل کے ہر رکن اور پوری بین الاقوامی برادری کے لیے سخت تشویش کا باعث ہونا چاہیے۔سفیر عاصم افتخار نے پاکستان کے موقف کو دہراتے ہوئے یاد دلایا کہ ثالثی عدالت کے 2025کے فیصلے نے معاہدے کی مسلسل قانونی حیثیت اور اس کے تنازعہ حل کرنے کے طریقہ کار کی توثیق کی ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ "فریقین کو جلد از جلد معاہدے کی مکمل بحالی اور طے شدہ چینلز کے ذریعے معمول کے مطابق عمل درآمد کی طرف لوٹنا چاہیے۔وسیع تر ایجنڈے پر بات کرتے ہوئے، سفیر عاصم نے ماحول اور سلامتی کے مابین بنیادی ربط کو اجاگر کیا اور امن کے قیام کے لیے ایک پیشگی اور پائیدار نقطہ نظر اپنانے کی ضرورت پر زور دیا۔ انہوں نے بین الاقوامی برادری سے مطالبہ کیا کہ وہ ماحولیات کے تحفظ کو تنازعات کی روک تھام، امن مشنوں اور بعد از تنازعہ بحالی میں مثر طور پر ضم کرے۔ مستقل مندوب نے کہا کہ جنگوں میں ماحولیاتی تباہی محض ضمنی نقصان نہیں بلکہ عدم استحکام کا موجب بھی بنتی ہے۔ انہوں نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ پاکستان اجتماعی اقدامات کے ذریعے ماحولیاتی بحالی، بین الاقوامی قانون کی پاسداری، اور مشترکہ قدرتی وسائل کو تعاون کے ذرائع میں بدلنے کے لیے سرگرم کردار ادا کرتا رہے گا۔







