مقبوضہ کشمیر، بجلی کے بھاری بلوں کیخلاف احتجاج، بھارت کی بے حسی پر عوامی غصہ بڑھ گیا

سری نگر:بھارت کے غیر قانونی زیر قبضہ جموں و کشمیر میں بھارت اور اس کی قابض انتظامیہ کی تمام تر توجہ کشمیریوں کے اقوامِ متحدہ کے تسلیم شدہ حقِ خودارادیت کو دبانے پر مرکوز ہے، جبکہ عوام کے لئے روزمرہ مشکلات میں مسلسل اضافہ ہورہا ہےجس سے خطے بھر میں بھارت کے خلاف غم و غصہ بڑھ رہا ہے ۔
کشمیر میڈیا سروس کے مطابق جنوبی کشمیر کے ضلع پلوامہ میں باتگند ترال کے رہائشیوں نے بجلی کے نرخوں میں ناانصافی پر مبنی بھاری اضافے کے خلاف احتجاج کیا۔ صارفین کا کہنا تھا کہ حالیہ مہینوں میں ان کے ماہانہ بجلی کے بل دوگنے سے بھی زیادہ ہو گئے ہیں جس سے سخت سردی اور ضروری اشیاء کی بڑھتی قیمتوں کے باعث گھروں کا بجٹ تباہ ہو کر رہ گیا ہے۔ انہوں نے ترمیم شدہ ٹیرف فوری طور پر واپس لینے کا مطالبہ کیا ۔مقامی لوگوں نے نشاندہی کی کہ حال ہی میں وزیراعلیٰ عمر عبداللہ نے کہا تھا کہ بجلی کے نرخوں میں کوئی اضافہ نہیں ہوگا۔اب بجلی کی بلوں میں اضافہ کس کے حکم پر کیا جا رہا ہے؟ کیا وہ بیان محض لوگوں کو بہلانے کے لیے تھا؟
مظاہرین کا کہنا تھا کہ نیشنل کانفرنس کے برسراقتدار آنے کے بعد سے بجلی کے چارجز میں نمایاں اضافہ ہوا ہے جو ناقابلِ برداشت ہے۔ ایک صارف نے کہا کہ یہ صریحاً ناانصافی ہے۔ ہم دیہاڑی دار مزدور اور غریب لوگ ہیں، سردی اور مہنگائی کے اس دور میں اتنے بھاری بل کیسے ادا کریں؟۔ایک اور صارف نے کہا کہ اگر حکومت سستی بجلی نہیں دے سکتی تو ہماری بجلی مکمل کاٹ دے، کم از کم ہر ماہ اتنے بھاری بلوں کا بوجھ تو نہیں اٹھانا پڑے گا۔ مظاہرین نے انتظامیہ سے مطالبہ کیا کہ عام لوگوں کے لیے بجلی کے نرخ قابل برداشت رکھے جائیں اور وزیراعلیٰ عمر عبداللہ خود مداخلت کرکے اس ظالمانہ اضافے کو واپس لینے کے لیے فوری اقدامات کریں۔






