مقبوضہ جموں و کشمیر

مودی حکومت مقبوضہ کشمیرمیں ذرائع ابلاغ کا گلا گھونٹ رہی ہے ، پریس کونسل آف انڈیا

نئی دلی 14مارچ (کے ایم ایس)
پریس کونسل آف انڈیاکی ایک فیکٹ فائنڈنگ کمیٹی نے تصدیق کی ہے کہ جموں و کشمیر میں خصوصا وادی کشمیر میں مقامی انتظامیہ کی طرف سے عائد بڑے پیمانے پر پابندیوں کی وجہ سے ذرائع ابلاغ خاص طورپر اخبارات اور نیوز چینلوں کی آواز آہستہ آہستہ دبائی جارہی ہے۔
کشمیر میڈیا سروس کے مطابق پریس کونسل آف انڈیا کے ریٹائرڈ جسٹس سی کے پرساد نے گزشتہ سال ستمبر میں پی ڈی پی کی رہنماء محبوبہ مفتی کے کونسل کے نام خط کے بعد غیر قانونی طورپر بھارت کے زیر قبضہ جموں و کشمیرمیں ذرائع ابلاغ کی صورتحال کاجائزہ لینے کیلئے ایک فیکٹ فائنڈنگ کمیٹی قائم کی تھی۔کمیٹی نے گزشتہ ہفتے پیش کی گئی اپنی رپورٹ میں کہاہے کہ مقبوضہ کشمیرمیں ہراسگی کا نشانہ بننے والے صحافیوں کی ایک طویل فہرست ہے تاکہ انہیں حکومتی پالیسی کے مطابق کام کرنے کیلئے مجبور کیا جاسکے ۔ رپورٹ کے مطابق حکومت کے اس شبہ کہ کشمیری صحافیوں کی بڑی تعداد بھارتی تسلط سے آزادی کے عوامی جذبے کے ساتھ ہمدردی رکھتی ہے کی وجہ سے مقامی انتظامیہ اور صحافیوں کے درمیان معمول کے رابطے منقطع ہو گئے ہیں ۔رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ مقبوضہ کشمیرکے لیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا نے دعویٰ کیاہے کہ کشمیرمیں بہت سے صحافی آزادی کے حق میں یا بھارت مخالف جذبات رکھتے ہیں۔ پرکاش دوبے، سمن گپتا اور گربیر سنگھ پر مشتمل تین رکنی کمیٹی نے اپنی رپورٹ میں مقبوضہ علاقے میں صحافیوں سے تفتیش ، دھمکیوں اورانہیںاپنے کوائف جمع کرانے پر مجبور کئے جانے کے بہت سے واقعات کا حوالہ دیا ہے ۔ رپورٹ کے مطابق بعض صحافیوں کو سرینگر کے بدنام زمانہ تفتیشی مرکز میں پوچھ گچھ کیلئے طلب کیاگیا ۔ یہ مرکز مسلح گروپوں سے تفتیش کیلئے مشہور ہے ۔ بہت سے صحافیوں نے اپنے پیشہ وارانہ فرائض کی ادائیگی کے دوران بھارتی فوجیوں اور پولیس اہلکاروں کی طرف سے انہیں مسلسل ہراساں کئے جانے کے بارے میں بھی آگاہ کیا ہے ۔ رپورٹ کے مطابق مقبوضہ علاقے میں صحافیوںکو جدوجہد آزادی کی حمایت کرنے کے الزامات کے علاوہ پولیس اسٹیشنوں میں طویل تفتیش کا سامنا کرنے اور جعلی خبریں پھیلانے کے نام پر گرفتاریوں جیسے مظالم کا سامنا ہے ۔ پولیس حکام نے کمیٹی کے سامنے اعتراف کیا تھا کہ 2016 سے اب تک مقبوضہ علاقے میں49کشمیری صحافیوں کو گرفتار کر کے ان کے خلاف مقدمات قائم کئے گئے ہیں ۔ان میں سے 8 صحافیوں کو غیر قانونی سرگرمیوں کی روک تھام کے کالے قانون یو اے پی اے کے تحت گرفتار کیا گیا، جس کے تحت ضمانت تقریبا ناممکن ہے۔ پولیس کی طرف سے قائم کئے گئے مقدمات میں الزام لگایا گیا ہے کہ بہت سے کشمیری صحافی بھارت مخالف اور آزادی کے حق میں سرگرمیوں میں ملوث ہیں۔رپورٹ میں کہاگیا ہے کہ حکومتی پالیسیوں یا ترقیاتی کاموں کی حمایت کرنا صحافیوں کا کام نہیں ہے۔ ایک صحافی کا کام یہ ہوتا ہے کہ وہ خبر کواس کے حقیقی تناظر میں درست درست رپورٹ کرے چاہے وہ حکومت یا حکام کیلئے ناگوار ہی کیوں نہ ہو۔ فیکٹ فائنڈنگ کمیٹی کی رپورٹ کے مطابق معلومات اکٹھا کرنے کی آڑ میں،بھارتی فورسز کی طرف سے خاص طورپراگست 2019 کے بعد سے صحافیوں کو دھمکیاں اورخوف ودہشت کا نشانہ بنانا مقبوضہ علاقے میں روز کا معمول بن گیا ہے ۔ کمیٹی نے تشویش کا اظہار کیا کہ مختلف سرکاری محکموں کے شعبہ تعلقات عامہ کو پولیس نے اپنے قبضے میں لے لیا ہے جو کہ جمہوریت کی روح کے خلاف ہے ۔ رپورٹ کے مطابق صحافی خبروں کے حصول اورانہیں منتقل کرنے کے لیے انٹرنیٹ جیسے مواصلاتی نیٹ ورکس پر انحصار کرتے ہیںجس معطل کرنے کا حکومت کو اختیار حاصل ہوتا ہے جیسا کہ اس سلسلے میں مقبوضہ جموںو کشمیر کی مثال دی جاسکتی ہے ۔ کمیٹی نے کہاہے کہ متنازعہ علاقے میں مسلح تصادم یا مظاہروں کے مقام تک رسائی سے روکناصحافیوںکو آزادانہ اور منصفانہ خبروں کے حصول سے روکنے کا طریقہ ہے اور ان پالیسیوں کو تبدیل کیا جانا چاہیے۔رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ صحافیوں کو اپنے پیشہ ور انہ فرائض کی ادائیگی کی اجازت دی جانی چاہیے، جب تک کہ وہ معمول کی سیکورٹی کارروائیوں میں رکاوٹ نہ بنیں۔کمیٹی نے کہا کہ کشمیر پریس کلب کی بندش کی کوئی معقول وجہ سامنے نہیں آئی ہے اور کلب کی رجسٹریشن بحال کر کے سرکاری حکام کو پریس کلب کے انتخابات کے عمل میں کوئی مداخلت نہیں کرنی چاہیے ۔ رپورٹ میں یاد دلایا گیا ہے کہ پریس کونسل کو لکھے گئے اپنے خط میں محبوبہ مفتی نے ذکر کیا تھا کہ جن صحافیوں کو پولیس طلب کرتی ہے ان سے سوالنامہ پرُ کروایا جاتا ہے "جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ اس شخص کے ‘ملک دشمن’طاقتوں سے روابط ہوسکتے ہیں۔25سوالات میں صحافی کی "سیاسی وفاداری، جائیداد کی تفصیلات اور”پاکستان میں موجود رشتہ داروں "سے متعلق سوالات شامل ہوتے ہیں۔رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ انسپکٹر جنرل پولیس وجے کمار کو بغیر کسی ہچکچاہٹ کے اعتراف کیاتھا کہ مقبوضہ جموں و کشمیر میں کام کرنے والے صحافیوں کے کوائف اکھٹے کرنے کا پروگرام شروع کیاگیا اور ہمارا مقصد اسی فیصد کشمیریوں بشمول صحافیوںکے کوائف اکٹھے کرنا ہے ۔

متعلقہ مواد

Leave a Reply

Back to top button
%d