مقبوضہ جموں و کشمیر

مقبوضہ جموں وکشمیر میں بلاجواز گرفتاریوں میں تیزی آئی ہے

سرینگر28 اپریل (کے ایم ایس)بھارت کے غیر قانونی زیر قبضہ جموں و کشمیر میں سیاسی ماہرین اور تجزیہ کاروں نے کہا ہے کہ علاقے میں سیاسی کارکنوں، انسانی حقوق کے محافظوں اور صحافیوں کی بلا جواز گرفتاریوں میں تیزی آئی ہے۔
سیاسی ماہرین اور تجزیہ کاروں نے سرینگر میں اپنے انٹرویوز میں افسوس کا اظہار کیا کہ مقبوضہ علاقے میں بے گناہ لوگوں کی بلا جواز نظربندیوں کے لیے کالے قوانین پبک سیفٹی ایکٹ اور یو اے پی اے کا استعمال کیا جا رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہا کہ حریت رہنماو¿ں، صحافیوں، حقوق کے محافظوں اور یہاں تک کہ عام کشمیریوں کو بھی جھوٹے مقدمات میں پھنسایا جا رہا ہے اور بلاجواز گرفتاریوں کا مقصد کشمیر کے آزادی پسند لوگوں کو خوفزدہ کرنا ہے۔ انہوں نے کہا کہ گرفتاریاں اور چھاپے مودی حکومت کی بوکھلاہٹ کا مظہر ہیں۔ کشمیری صحافیوں اور انسانی حقوق کے محافظوں کو نشانہ بنانا مودی کی جبر و استبداد کی پالیسی کا حصہ ہے۔ بھارت انسداد دہشت گردی کے قوانین کا استعمال کرتے ہوئے انسانی حقوق کے کشمیری محافظ خرم پرویز اور فہد شاہ سمیت صحافیوں کو حراست میں لے رہا ہے اور انہیں نشانہ بنا رہا ہے۔سیاسی ماہرین اور تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ خرم پرویز، فہد شاہ اور دیگر کی گرفتاری کا مقصد مقبوضہ علاقے کے لوگوں کی آواز کو دبانا ہے۔ انہوں نے نشاندہی کی کہ مودی سرکار کے دباو¿ کے ہتھکنڈے کشمیریوں کو ان کی آزادی کے حصول سے روکنے میں ناکام رہے ہیں۔
سیاسی ماہرین اور تجزیہ کاروں نے افسوس کا اظہار کیا کہ مودی حکومت تنازعہ کشمیر کے حل کے تمام پرامن ذرائع کو تباہ کرنے پر تلی ہوئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ بھارت کو مقبوضہ علاقے میں بین الاقوامی قوانین کی صریح خلاف ورزی کے ارتکا ب پر سزا ملنی چاہیے۔

متعلقہ مواد

Leave a Reply

Back to top button
%d