پیگاسس جاسوسی اسکینڈل :بھارتی حکومت کا سپریم کورٹ میں جاسوسی کا اعتراف

نئی دلی 19 اگست (کے ایم ایس )
بھارتی حکومت نے اسرائیلی پیگاسس سپائی وئیر جاسوسی اسکینڈل کی سپریم کورٹ میں سماعت کے دوران معروف سیاست دانوں، صحافیوں ،سماجی کارکنوںاور دیگر کی جاسوسی کا اعتراف کرتے ہوئے اس مقصد کیلئے استعمال کئے جانیوالے سافٹ ویئر کا نام بتانے سے انکار کر دیا ہے ۔
کشمیرمیڈیاسروس کے مطابق پیگاسس جاسوسی اسکینڈل کی تحقیقات کیلئے سینئر صحافیوںاور سیاست دانوںکی طرف سے سپریم کورٹ میں سماعت کے دوران بھارتی حکومت کی جانب سے سالیسیٹر جنرل تشار مہتا نے عدالت عالیہ میں معروف سیاست دانوں ، صحافیوں، انسانی حقوق کے کارکنوں اور دیگرکی نگرانی کا اعتراف کرتے ہوئے اس مقصد کیلئے استعمال کئے جانیوالے سافٹ وئیر کا نام بتانے سے انکار کیا۔ انہوںنے کہاکہ کوئی بھی ملک خفیہ معلومات کو عام نہیں کرتا کہ کون سا سافٹ وئیر استعمال نگرانی کیلئے استعمال کیاجارہا ہے ۔انہوں نے کہا کہ عوامی طور پر معلومات نہیں دی جا سکتیں اور نہ ہی سپریم کورٹ سے یہ توقع ہے کہ وہ حکومت سے معلومات کو عام کرنے کاکہے گی ۔ انہوںنے کہاکہ ان کے پاس عدالت سے چھپانے کے لیے کچھ نہیںاور تمام معلومات ماہر کمیٹی کو دی جائیں گی ۔انہوںنے کہاکہ تمام معلومات کمیٹی کے سامنے رکھیں گے لیکن یہ عوامی بحث کا موضوع نہیں بن سکتا۔تشار مہتا نے کہا کہ کل ایک ویب پورٹل پر بحث ہوگی کہ کچھ فوجی آلات غیر قانونی مقاصد کے لیے استعمال کیے گئے ہیں۔ پھرایک شخص عدالت میں پٹیشن دائر کرے گا جس کا اس سے کوئی لینا دینا نہیں اور پوچھے گا کہ کون سا سامان استعمال کیا جاتا ہے اور کون سا نہیں۔انہوں نے کہا کہ اگر میں حکومت کو حلف نامے میں سافٹ وئیر کے بارے میں معلومات دینے کا مشورہ دوں تو میں اپنے فرض کی ادائیگی میں ناکام سمجھا جائوں گا۔ انہوںنے کہاکہ بھارتی حکومت دہشت گردی سے لڑنے اور قومی سلامتی کے لیے مشتبہ تنظیموں پر نظررکھتی ہے لیکن سافٹ ویئرکا نام نہیں بتا سکتے۔انہوںنے کہاکہ درخواست گزار چاہتے ہیں کہ حکومت بتائے کہ وہ کون سا سافٹ وئیر استعمال کرتے ہیں اور کون سا نہیں۔ یہ بتانے سے،کیا ہم ان تنظیموں کو خبردار نہیں کریں گے جن کی ہم نگرانی کر رہے ہیں؟ ٹیکنالوجی اتنی ترقی یافتہ ہے کہ ایک بار جب وہ جان لیں کہ کون سا سافٹ وئیر استعمال کیا جا رہا ہے تو وہ اپنے سسٹم کو محفوظ کر لیں گے اور نگرانی سے گریز کریں گے۔
ساوتھ ایشین وائر کے مطابق بھارتی سپریم کورٹ میں جاسوسی اسکینڈل کی تحقیقات کیلئے سینئر صحافی این رام، ششی کمار، سی پی آئی (ایم)کے راجیہ سبھا کے رکن جان برٹاس، صحافی پرنجے گوہا ٹھکوراتا، ایس این ایم عابدی، پریم شنکر جھا، روپیش کمار اور اپشا شتاکشی، سماجی کارکن جگدیپ چھوکر، نریندر کمار مشرا اور ایڈیٹرزگلڈ آف انڈیا اور سپریم کورٹ کے وکیل منوہر لال شرما نے عرضداشتیں دائر کر رکھی ہیں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

%d bloggers like this: