مقبوضہ کشمیر:حلقہ بندی کمیشن کی نام نہاد رپورٹ کے خلاف احتجاجی دھرنا


جموں17مئی (کے ایم ایس)
غیر قانونی طور پر بھارت کے زیر قبضہ جموں و کشمیر میں جموں میں الیکشن کمیشن کے دفتر کے باہر حلقہ بندی کمیشن کی نام نہاد حتمی رپورٹ کے خلاف احتجاجی دھرنا دیا گیا۔
مودی حکومت نے ہندو اکثریتی خطے جموں کو مسلم اکثریتی وادی کشمیر پراسمبلی نشستوں میں برتری دینے کی غرض سے مقبوضہ کشمیرمیںاسمبلی حلقوں کی از سرنو ترتیب دینے کیلئے نام نہاد حلقہ بندی کمیشن تشکیل دیا تھا۔احتجاجی دھرنے کا اہتمام بھارتیہ جنتا پارٹی کے سوا جموں سے تعلق رکھنے والی تقریبا تمام سیاسی جماعتوں نے آل پارٹیز یونائیٹڈ مورچہ کے بینر تلے کیاتھا۔اس موقع پر مقررین نے کمیشن کی طرف سے پیش کی گئی سفارشات کو واپس لینے اور جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی بحالی پرزوردیاجسے مودی حکومت نے اگست 2019میں منسوخ کر دیا تھا ۔ انہوں نے فرقہ وارانہ ہم آہنگی کو مضبوط بنانے اور مقبوضہ جموں و کشمیر میں جمہوری عمل کی بحالی کا بھی مطالبہ کیا۔مظاہرین نے ہاتھوں میںبینرز اور پلے کارڈ اٹھا رکھے تھے جن پر ” ہم حلقہ بندی کمیشن کی امتیازی رپورٹ کو مسترد کرتے ہیں”جیسے نعرے درج تھے۔احتجاجی دھرنے میں شیخ عبدالرحمن، ر ویندر شرما، رتن لعل گپتا، جی ایس چرک، ہری سنگھ، اشونی پردھا، رام پال، سنیل ڈمپل، نیندر سنگھ خالصہ، انیتا ٹھاکر، نرمل سنگھ، وریندر سنگھ، ایس گیان سنگھ ، سکھ دیو سنگھ، دیش بھگت، مہندر سنگھ اور ایس سرجیت سنگھ نے شرکت کی۔آئی ڈی کھجوریہ نے بھی دھرنے میں شرکت کی جوآل پارٹیز یونائیٹڈ مورچہ کے کنوینر ہیں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

%d bloggers like this: