مقبوضہ کشمیر: ہفتہ شہادت کے سلسلے میں قرآن خوانی و فاتحہ خوانی کی تقریب منعقد کی گئی

سرینگر20مئی (کے ایم ایس)
غیر قانونی طور پر بھارت کے زیر قبضہ جموں و کشمیر میں ممتاز آزادی پسند رہنمائوں میرواعظ مولوی محمد فاروق ،خواجہ عبدالغنی لون اور شہدائے حول کی شہادت کی برسیوں کے حوالے سے منائے جانیوالے ہفتہ شہادت کے سلسلے میں میرواعظ منزل راجوری کدل میں قرآن خوانی او رفاتحہ خوانی کی مجلس منعقد کی گئی ۔
کشمیرمیڈیاسروس کے مطابق شہد قرآن خوانی اور فاتحہ خوانی کااہتمام عوامی مجلس عمل اور انجمن جامع مسجد سرینگر نے کیا تھاجس میں حریت رہنمائوں اورعلما ئے کرام کے علاوہ بڑی تعداد میں لوگوں اور طلبا نے شرکت کی۔ اس موقع پر شہید ملت میر واعظ مولوی محمد فاروق ،شہید حریت خواجہ عبدالغنی لون اوردیگر شہدائے کشمیر کی بلندی درجات اور بھارتی تسلط سے مقبوضہ کشمیر کی آزادی کیلئے خصوصی دعائیں کی گئیں۔ میر واعظ مولوی فاروق کے یوم شہادت کے سلسلے میں منائے جانیوالے ہفتہ شہادت کے تحت قرآن خوانی اور فاتحہ خوانی کی یہ تقریب اگست 2019میں مودی حکومت کی طرف سے مقبوضہ کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی اور اسکے بعد پورے مقبوضہ علاقے میں مسلسل فوجی محاصرے ، پابندیوں اور کرفیو کی وجہ سے تین سال کے وقفے کے بعد منعقد کی گئی ۔اس دوران مقابلہ حسن قرات ونعت خوانی کا بھی اہتمام کیا گیا جس میںبہترین قرات اور نعت پڑھنے والوں کو انعامات سے نواز گیا۔ مجلس میں کل جماعتی حریت کانفرنس کے کے رہنمائوں مسرور عباس انصاری ، آغا مجتبیٰ حسن الموسوی ، عوامی مجلس عمل کے رہنمائوں سید رحمان شمس ، مفتی غلام رسول اور غلام قادر بیگ نے بھی شرکت کی ۔

ادھر تعلیمی انجمن نصرة الاسلام نے سرینگر سے جاری ایک بیان میں شہید ملت میرواعظ مولوی محمد فاروق کو انکی شہادت کی برسی کے موقع پر خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے کہا ہے کہ انہوں نے کشمیری عوام کی فلاح و بہبود اور نوجوانوں کو جدید تعلیمی تقاضوں سے ہم آہنگ کرنے کیلئے جو گرانقدر خدمات انجام دیں ہیں انہیں طویل عرصے تک یاد رکھا جائیگا۔ بیان کے مطابق انجمن میرواعظ عمر فاروق کی سربراہی میں میر واعظ مولوی فاروق کے مشن کو جاری رکھے ہوئے ہے ۔
واضح رہے کہ میر واعظ مولوی محمد فاروق کونامعلوم مسلح افراد نے 21مئی 1990کو سرینگر میں ان کی رہائش گاہ پر گولیاں مار کر شہید کر دیا تھا، اسی روز سرینگر کے علاقے حول میں بھارتی فوجیوں نے ان کے جنازے کے شرکاء پر اندھا دھند فائرنگ کر کے 70 سوگواروں کو شہید کر دیا تھا۔ 2002میں اسی دن نامعلوم مسلح افراد نے خواجہ عبدالغنی لون کو اس وقت شہید کردیاتھا جب وہ مزار شہداسرینگر میں ایک عوامی اجتماع سے خطاب کے بعد لوٹ رہے تھے ۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

%d bloggers like this: