غلام احمد گلزار کی کشمیریوں پرہندوتہذیب مسلط کرنے پر مودی حکومت کی مذمت

f07c6091-8afa-40ae-8d22-4f809e168394سرینگر15 جنوری (کے ایم ایس) بھارت کے غیر قانونی طور پر زیر قبضہ جموں و کشمیر میں کل جماعتی حریت کانفرنس کے نائب چیئرمین غلام احمد گلزار نے عالمی سطح پر تسلیم شدہ متنازعہ مسلم اکثریتی خطے جموں وکشمیر پر ہندوتوا تہذیب کو مسلط کرنے کی کھلی اور ڈھکی چھپی بھارتی سازشوں پر شدید تشویش کا اظہار کیا ہے۔
کشمیر میڈیا سروس کے مطابق غلام احمد گلزار نے سرینگر میں جاری ایک بیان میں کشمیر کے حوالے سے بھارت کے سامراجی رویے کی شدید مذمت کی۔ انہوں نے کہا کہ مقبوضہ علاقے کی خصوصی حیثیت کو منسوخ کرنے کے بعد نریندر مودی کی زیر قیادت فسطائی بھارتی حکومت نے اسے میدان جنگ میں تبدیل کر دیا ہے اور وہ مظلوم کشمیریوں کے آزادی کے جذبات کو دبانے کی ہرممکن کوششیں کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ مقبوضہ علاقے میں آبادی کے تناسب کو تبدیل کرنے، آئینی پابندیوں کی دھجیاں اڑنے، فوجی مقاصد کے لیے زیادہ سے زیادہ زمینوں پر قبضہ کرنے، سول انتظامیہ سے مسلمان ملازمین کو برطرف کرنے اور ہندوتوا تہذیب کو مسلط کرنے کے لیے بھارت کی طرف سے اسرائیلی ریاستی دہشت گردی کے ماڈل کو اپنانا بھارت کے مذموم عزائم ہیں جن کا بہادر کشمیری ڈٹ کر مقالبہ کرنے کے لیے پرعزم ہیں ۔غلام احمد گلزار نے اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوتریس پر زور دیا کہ وہ کشمیر پر اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قراردادوں کی ڈھٹائی سے خلاف ورزی پر بھارت کیخلا ف کارروائی کریں۔ انہوں نے کہا کہ آبادیاتی تبدیلی، اراضی قوانین اور متنازعہ علاقے میں وسیع پیمانے پر نسل کشی کا ارتکاب اقوام متحدہ اور عالمی برادری کے لیے سنگین تشویش کا باعث ہونا چاہیے۔غلام احمد گلزار نے بھارت سے کہا کہ وہ بین الاقوامی قوانین اور معاہدوں کی خلاف ورزی بند کرے اور کشمیری عوام کو اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قراردادوں کے مطابق آزادانہ اور منصفانہ استصواب رائے کے ذریعے اپنے سیاسی مستقبل کا فیصلہ کرنے کی اجازت دیں۔انہوں نے انسانی حقوق کے نامور کارکنوں محمد احسن اونتو ، خرم پرویز اور صحافی سجاد گل کی غیر قانونی حراست کی سخت مذمت کرتے ہوئے اسے مقبوضہ علاقے میں بھارت کی بوکھلاہٹ قرار دیا۔ انہوں نے افسوس کا اظہار کیا کہ بھارت نے مقبوضہ علاقے میں تمام انسانی حقوق سلب کر رکھے ہیں۔
غلام احمد گلزار نے اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کونسل اور انسانی حقوق کی دیگر تنظیموں پر زور دیا کہ وہ انسانی حقوق کے کارکنوں، صحافیوں ، حریت رہنماو¿ں اور کارکنوں کی جھوٹے اور من گھڑٹ مقدمات میں غیر قانونی گرفتاریوں کا نوٹس لیں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

%d bloggers like this: