اسلام آباد:
کشمیر ہائوس اسلام آبادمیں منعقدہ کشمیر یوتھ کانفرنس سے سینیٹر مشاہد حسین سید، کل جماعتی حریت کانفرنس آزاد کشمیر شاخ کے کنوینئر غلام محمد صفی اور دیگر مقررین نے خطاب کیا ۔
کشمیرمیڈیاسروس کے مطابق مشاہد حسین سید نے کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہاکہ پاکستان کی کشمیر پالیسی ہے وہی پالیسی ہے جو قائد اعظم محمد علی جناح کی تھی ۔اس میں کوئی تبدیلی نہیں کی گئی، اس پالیسی کے مطابق جموںو کشمیر پاکستان کی شان ہے ۔ انہوں نے کہاکہ رواں سال میں کشمیر کے حوالے سے تین مثبت چیزیں سامنے آئی ہیں پاکستان کو نیٹ سکیورٹی کے حوالے سے ایک نیا مقام ملا ہے،پہلی بار مغربی رائے عامہ فلسطین کے بارے میں بدلی ہے جس کا اثر مقبوضہ کشمیر پر بھی پڑے گا اوربھارت کی بالادستی کے خلاف چین پاکستان کے شانہ بشانہ موجود ہے ۔ انہوں نے کہاکہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ پہلے صدر ہیں جون جنگجو نہیں ہیں بلکہ وہ جنگیں ختم کرانے کی بات کرتے ہیں ۔ مشاہد حسین سید نے واضح کیاکہ کشمیر پاکستان کی پہلی ترجیح ہے اسکو سیاست سے جوڑنا درست نہیں ہے ۔ عوامی رائے مسئلہ کشمیر کے حوالے بہت اہم ہے انشا اللہ کشمیر بنے گا پاکستان ۔ سابق صدر آزاد کشمیر سردار مسعود خان ، غلام محمد صفی ، الطاف حسین وانی، شیخ عبدالمتین اور دیگر حریت رہنمائوں سمیت مقررین نے اپنے خطاب میں کہاکہ حریت چیئرمین مسرت عالم بٹ کشمیری مزاحمتی تحریک کی سب سے توانا آواز ہیں۔وہ زمانہ طالبعلمی سے ہی تحریک آزادی سے وابستہ ہو گئے تھے ۔ انہوں نے کہاکہ بابا حریت سید علی گیلانی نے مسرت عالم بٹ کو اپنا جانشین مقرر کیا۔مسرت عالم بٹ کے کردار نے نوجوانوں کو منظم کیا،انکے فولادی ارادوں کے سامنے بھارت کو جھکنا پڑا۔مسرت عالم بٹ گزشتہ دس سال سے زائد عرصے سے نئی دلی کی تہاڑ جیل میں مسلسل قید ہیں۔مقررین نے مسرت عالم بٹ سمیت غیر قانونی طورپر نظربند حریت رہنمائوں محمد یاسین ملک، آسیہ اندرابی اور دیگر کو ثابت قدمی پر شاندار خراج تحسین پیش کیا ۔ انہوں نے کہاکہ رواں سال مئی میں پاک بھارت جنگ میں پاکستان کی شاندار فتح سے کشمیریوں کے حوصلے بلند ہوئے ہیں۔ مقررین نے کہاکہ امریکی صدر ٹرمپ نے پاک بھارت جنگ بندی کرانے کا اعلان کیااورپاکستان نے سفارتی اصولوں پر عمل کرتے ہوئے امریکہ کے ثالثی کے کردار پر اس کا شکریہ ادا کیا۔تاہم بھارت مسلسل اپنی ہٹ دھرمی پر قائم ہے اور جنگ بندی میں امریکہ کے کردار سے انکار کر رہاہے۔ کانفرنس کے دیگر شرکا میں ڈاکٹر اویس بن وصی،ایمبیسڈر عبدالباسط اوردیگر بھی شامل تھے ۔








