مقبوضہ کشمیر : بھارتی حکومت منشیات کو دانستہ طور پر فروغ دے رہی ہے
وادی کشمیر میں کم از کم 70ہزار افراد منشیات کی لت میں مبتلا

سری نگر:بھارت کے غیر قانونی زیر قبضہ جموں و کشمیر میں تقریباً70ہزار افراد منشیات کی لت میں مبتلا ہیں۔ بھارتی حکومت منشیات کی خرید وفروخت کو دانستہ طور پر فروغ دے رہی ہے جس کی وجہ سے معاملہ سنگین شکل اختیار کر رہا ہے۔
کشمیر میڈیا سروس کے مطابق گورنمنٹ میڈیکل کالج (جی ایم سی) سری نگر کے شعبہ نفسیات اور محکمہ سماجی بہبود نے اس مسئلے کی سنگینی کو اجاگر کیا ہے۔
مقبوضہ وادی کشمیر میں منشیات استعمال کرنے والوں میں سے 90% حیرت انگیز طور پر 17-35 سال کی عمر کے گروپ میں آتے ہیں، حالیہ برسوں میں منشیات کے استعمال میں 1500% اضافہ ہوا ہے۔
ایک مقامی رہائشی نے کا کہنا ہے کہ صورتحال تشویشناک ہے، اور ہمیں اس بحران سے نمٹنے کے لیے ایک جامع منصوبہ بندی کی ضرورت ہے۔ہم حکام پر زور دیتے ہیں کہ وہ منشیات کی سپلائی کو روکنے کے لیے ٹھوس اقدامات کریں ۔
وادی کشمیر میں لوگوںکا کہنا ہے کہ حکام معاملے کی طرف کوئی خاص توجہ نہیں دے رہے ہیںاور ایسا لگ رہا کہ علاقے میں منشیات کے پھیلاو¿ کے پیچھے ایک مذموم مقصد کارفرما ہے اور بھارتی حکومت اسے دانستہ طور پر فروغ دے رہی ہے۔ ایک مقامی کارکن نے کہایہ کوئی اتفاقی بات نہیں ہے کہ نوجوانوں کو نشانہ بنایا جا رہا ہے اور قابض حکام آنکھیں بند کیے ہوئے ہیں۔انہوں نے کہا کہ یہ ہمارے عزم کو کمزور کرنے اور بھارت سے آزادی کی جدوجہد سے ہماری توجہ ہٹانے کی دانستہ کوشش ہے۔ لوگوں کا کہنا ہے کہ بھارت ہمیں اس طرح کے اوچھے ہتھکنڈوں سے ہرگز زیر نہیں کر سکتا۔







