
جموں وکشمیر کی تاریخ میں 19 جولائی کے دن کو ایک خاص اہمیت حاصل ہے۔1947میں یہی وہ دن تھا جب مسلم اکثریتی جموں وکشمیر نے اپنی تقدیر ، اپنا مستقبل کرہ ارض پر معرض وجود میں آنے والی ایک نئی مسلمان ریاست پاکستان کے ساتھ وابستہ کر لیا تھا۔انگریز برصغیر پر قائم تقریبا اپنا دوسوسالہ تسلط ختم کر کے یہاں سے نکل رہا تھا،برصغیر پاک و ہند بڑی سیاسی تبدیلیوں سے گزر رہا تھا۔ دو قومی نظر یے کی بنیاد پر محمد علی جناح کی فقید المثال قیادت و رہنمائی میں چلنے والی تحریک پاکستان اپنی کامیابی کی طرف تیزی سے رواں دواں تھی۔ کانگریسی قیادت نے پاکستان کا قیام روکنے کی لاکھ کوششیں کیں ، قائد اعظم کو متحدہ ہندوستان کا گورنر جنرل بنانے کی بھی پیشکش کی لیکن انہوں نے یہ پیشکش رد کی او ر کہا کہ وہ مسلمانوں کے لیے ایک الگ وطن کے مطالبے سے ہرگز دستبردار نہیں ہونگے۔ بالآخر حق وصداقت کی فتح ہوئی، منافقت ومکاری شکست کھا گئی۔ انگریز کو چار وناچار تقسیم برصغیرکا اعلان کرنا پڑا۔5سو سے زائد ریاستوں کو یہ اختیار دیا گیا کہ وہ پاکستان یا بھارت جس کے ساتھ جانا چاہیں ، جاسکتی ہیں۔
برصغیر پاک وہند کے شمال مغربی حصے میں واقع جموں وکشمیر کی حسین وجمیل مسلم اکثریتی ریاست میں قائم حقیقی نمائندہ جماعت مسلم کانفرنس نے دو قومی نظریے پر پوری طرح سے عمل پیرا ہوتے ہوئے سرینگر کے علاقے آبی گزر میں19جولائی 1947کو اپنی مجلس عاملہ کا اہم اجلاس منعقد کیا جس میں ”الحاق پاکستان“ کی قرارداد منظور کی گئی۔ قرارداد میں ریاست کے اس وقت کے ڈوگرہ حکمران مہاراجہ ہری سنگھ سے مطالبہ کیا گیا کہ وہ نہتے اور مظلوم مسلمانوں کا قتل عام بند کرے اور جموں و کشمیر کے عوام کے جذبات، احساسات اور خواہشات کا احترام کر کے ریاست کا الحاق پاکستان کے ساتھ کرے۔ جموں و کشمیر اور پاکستان کے درمیان گہرے مذہبی، جغرافیائی، ثقافتی اور تہذیبی رشتوں کی عکاس یہ قرار داد 14 اور 15 اگست کو پاکستان اور بھارت کی صورت میں دو خودمختار ریاستوں کی تشکیل سے تقریباً ایک ماہ قبل منظور کی گئی تھی۔
مسلم اکثریتی ریاست ہونے کے ناطے پاکستان کے ساتھ جموں وکشمیر کے الحاق میں بظاہر کوئی رکاوٹ درپیش نہیں تھی ، جبکہ اس حوالے سے کشمیریوں کی قرارداد بھی موجود تھی۔لیکن کانگریس کے عیار ومکار رہنماﺅں نے مہاراجہ ہری سنگھ کے علاوہ شیخ عبداللہ ، جس نے پہلے ہی مسلم کانفرنس سے علیحدگی اختیار کر کے پنڈت نہرو کی جی حضوری میں نیشنل کانفرنس کے نام سے اپنی الگ جماعت قائم کر لی تھی، کے ساتھ مل کر سازش کی اور فریب و مکاری کا مظاہرہ کرتے ہوئے جموں و کشمیر پر غاصبانہ قبضہ کر لیا۔ 27اکتوبر 1947کو سرینگر کے ہوائی اڈے پر بھارتی فوج اتاری گئی اور یوں کشمیری ڈوگروں کے بعد بھارت کے پنجہ استبداد میں جکڑے گئے۔ ڈوگرہ مہاراجہ کی فورسز اور ہندو انتہا پسند تنظیموں کے غنڈوں نے نہتے کشمیری مسلمانوں کے خون سے ہولی کھیلی اور جموں میں آبادی کے تناسب کو بدلنے کے لئے اگست اور نومبر کے مہینوں کے دوران ساڑھے تینلاکھ کے قریب مسلمانوں کو بے دردی سے شہید کر کے ظلم و تشدد کی ایک نئی تاریخ رقم کی۔بھارتی فوجیوں نے آزادی کے مطالبے کی پاداش میں 1989سے اب تک ایک لاکھ کے قریب کشمیری شہید ،10ہزار کے لگ بھگ لاپتہ کیے، آزادی پسند رہنماﺅں سمیت پانچ ہزار کے لگ بھگ کشمیری اس وقت بھارتی جیلوں اور عقوبت خانوں میں بند ہیں۔ مودی حکومت نے اگست 2019میں جموں وکشمیر کی خصوصی حیثیت سلب کر کے کشمیریوں پر ایک او ر سنگین وار کیا ۔بی جے پی حکومت مقبوضہ علاقے میں مسلمانوں کی اکثریت کو اقلیت میں بدلنے کے مذموم منصوبے پر عمل پیرا ہے۔
بھارت کے تمام تر مظالم،سازشوں اور مکاریوں کے باوجود کشمیری عوام کا جذبہ آزادی توانا و مضبوط ہے۔ ان کے دلوں میں 19جولائی 1947کی تاریخی قرار داد کی اہمیت اور قدروقیمت اب بھی موجود ہے، الحاق پاکستان کا انکا خواب زندہ و جاوید ہے ۔ وہ مملکت خداداد میں شامل ہونے کے اپنے عہد پر قائم و دائم ہے ،عظیم آزادی پسند قائد سید علی گیلانی شہید کا نعرہ ”ہم پاکستانی ہیں ، پاکستان ہمارا ہے“ غیور کشمیری عوام کی پہچان بن چکا ہے ، بھارت کا بے انتہا جبر وستم انکے دلوں سے پاکستان کی محبت نکال نہیں سکا اور وہ اسکے تسلط سے آزادی اور پاکستان کے ساتھ الحاق کی جدوجہد عزم و ہمت سے جاری رکھے ہوئے ہیں۔یہی وجہ ہے کہ کنٹرول لائن کے دونوں جانب اور دنیا بھر میں بسنے والے کشمیری ہر برس19جولائی کو یوم الحاق پاکستان کے طور پر مناتے ہیں اور اپنے اس عزم کی تجدید کرتے ہیں کہ وہ بھارتی تسلط سے آزادی اور پاکستان کے ساتھ الحاق تک اپنی جدوجہد جاری رکھیں گے۔







