تازہ ترین

گجرات:بھارتی پولیس کا 9مسلمانوں کو کھمبے سے باندھ کر وحشیانہ تشدد ، ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل

download (1)نئی دلی 5 اکتوبر (کے ایم ایس)
بھارتی ریاست گجرات میں پولیس نے پتھرائو کے جھوٹے الزام میں گرفتار 9مسلمانوں کو بجلی کے کھمبے سے باندھ کر وحشیانہ تشدد کا نشانہ بنایا ہے۔
کشمیرمیڈیاسروس کے مطابق اس واقعے کی سوشل میڈیا پر وائرل ویڈیو میں ریاست کے ضلع کھیڈا میںسادہ کپڑوں میں ملبوس پولیس اہلکاروںکو ہندو مذہبی تہوار نوراتری گربامیں مبینہ طور پر پتھرائو کرنے کے الزام میں گرفتار کئے گئے 9 مسلمانوں کو کھمبے سے باندھ کو ا ن پر ڈنڈوں سے وحشیانہ تشدد کرتے ہوئے دکھایاگیا ہے ۔ ویڈیو میں وہاں بڑی تعداد میں موجود ہندوئوں کو جشن مناتے ہوئے اور نعرے لگاتے ہوئے بھی دکھایاگیا ہے۔ یہ واقعہ ضلع کے گائوں اندھیلہ میں پیش آیا ہے جس کی ویڈیو سوشل میڈیاخصوصا ٹویٹر پر وائرل ہو گئی ہے اور پولیس کی اس وحشیانہ کارروائی پر شدید تنقید کا سلسلہ جاری ہے ۔ بھارت کی معروف صحافی رعنا ایوب نے ایک ٹویٹ میں اس افسوسناک ویڈیو کو ٹیگ کرتے ہوئے کہاہے کہ وزیر اعظم نریندر مودی کی آبائی ریاست گجرات میں سادہ کپڑوں میں ملبوس پولیس اہلکاروں کو مسلمانوں کو کھمبے سے باندھ کرسرعام وحشیانہ تشددکانشانہ بنایا گیا ہے جبکہ وہاں موجود ہندوئوں کا ہجوم مسلمانوں پر پولیس کے تشدد پر خوشی سے سرشار ہے اور ہندو قوم پرستی کے حق میں نعرے لگا رہاہے اور جشن منارہا ہے ۔ ویڈیو میں پولیس کو مسلمانوں کو تشدد کا نشانہ بنانے کے علاوہ ہندوئوں سے معافی مانگنے پر بھی مجبور کیاجارہا ہے ۔ مقامی مسلمانوں کے مطابق ایک مسجد کے قریب نوراتی گربا کا تہوار منانے پر اعتراض کرنے کے خلاف درج کئے گئے مقدمے میں پولیس نے 43مسلمانوں کو نامزد کرنے کے بعد 13کو حراست میں لیاتھا جن میں سے 9افرادکو سبق سکھانے کیلئے پولیس نے سرعام وحشیانہ تشدد کا نشانہ بنایا ہے ۔


ادھر آل انڈیا مجلس اتحادالمسلمین کے سربراہ اسد الدین اویسی نے ایک ٹویٹ میں کہاہے کہ بھارت میں روزانہ بڑے پیمانے پر بنیاد پرستی کے مزید ثبوت مل رہے ہیں۔ پولیس اہلکاروں کی طرف سے سرعام مسلمانوں پر وحشیانہ تشدد اور ہجوم کی طرف سے تشددکے واقعات عام ہیں۔ انہوں نے کہاکہ مسلمانوں کے خلاف ٹارگٹڈ تشدد کو "انصاف” سمجھا جاتا ہے۔ انہوں نے کہاکہ یہ ہے مودی کے وشو گرو/نیو انڈیا،5جی اور5ٹریلین ٹن معیشت کی حقیقت۔

Leave a Reply

%d bloggers like this: