مقبوضہ کشمیر: ہائی کورٹ نے ایڈووکیٹ میاں عبدالقیوم کی درخواست ضمانت مسترد کر دی

جموں : بھارت کے غیر قانونی زیر قبضہ جموں و کشمیر میں ہائی کورٹ نے ایک جھوٹے مقدمے میں غیر قانونی طورپر نظربند ہائی کورٹ بار ایسوسی ایشن کے سابق صدر اور سینئر وکیل ایڈووکیٹ میاں عبدالقیوم کی ضمانت کی درخواست مسترد کر دی ہے ۔
کشمیرمیڈیاسروس کے مطابق جسٹس سندھو شرما اور جسٹس شہزاد عظیم پر مشتمل کشمیر ہائی کورٹ کے ڈویژن بنچ نے جموں میں طبی بنیادوں پر میاں عبدالقیوم کی ضمانت کی درخواست کی سماعت کی ۔ میاں عبدالقیوم نے ہائی کورٹ سے خالصتا انسانی اور طبی بنیادوں پر ضمانت کی درخواست کی تھی۔ ان کے وکیل نے درخواست کے حق میں دلائل دیتے ہوئے اپنے موکل کے بڑھاپے اور متعدد بیماریوں کا حوالہ دیا اور کہاکہ انہیں مسلسل نگرانی اور فالج سے بچائو کیلئے دیکھ بھال کی ضرورت ہے جو جیل میں موثر طریقے سے فراہم نہیں کی جا سکتی۔دونوں اطراف کے دلائل سننے کے بعد عدالت نے 17صفحات پر مشتمل اپنے فیصلے میں ضمانت کی درخواست مسترد کرتے ہوئے کہاکہ بنچ کے سامنے کوئی ایسا مواد نہیں پیش کیا گیا جس سے ظاہر ہو کہ جیل انتظامیہ میاںعبدالقیوم کو مطلوبہ طبی دیکھ بھال فراہم کرنے سے قاصر یا تیار نہیں ہے۔ عدالت نے مزیدکہا کہ حراست میں میاں عبدالقیوم کی علاج معالجے کی مناسب انتظام سہولتیں فراہم کی جارہی ہیں اور انہیں غیر معمولی ریلیف دینے کی ضرورت نہیں ہے۔
واضح رہے کہ 77سالہ میاں عبدالقیوم کو 2020میں قتل کے ایک جھوٹے مقدمے میں غیر قانونی سرگرمیوں کی روک تھام کے کالے قانون یو اے پی اے اور تعزیرات ہند اورآرمز ایکٹ کی مختلف دفعات کے تحت گرفتار کیاگیاتھا۔




